تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 413

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا اور جب ہم انسا ن پر انعام کریں تووہ روگردان ہو جاتاہے اوراپنے پہلو کو (اس سے )دور کرلیتا ہے۔اورجب اسے مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـُٔوْسًا۰۰۸۴ تکلیف پہونچے تو وہ بہت ہی مایوس ہو جاتا ہے۔حلّ لُغَات۔نَاٰبِجَانِبِہ۔نَاٰ کے معنے ہیں بَعُدَ دور ہوا۔ب لازم فعل کو متعدی بنانے کے لئے ہے پس نَاٰ بِجَانِبِهٖکے معنی ہوںگے اس نے اپنے پہلو کو دورکرلیا (اقرب) یؤُسًا۔یؤُسًایہ یَئِسَ سے مبالغہ کاصیغہ ہے۔یؤُوْسٌ کے معنی ہیں بہت مایوس ہونے والا(اقرب)۔تفسیر۔اس میں بتایا کہ مومن اور کافر میں بڑافرق ہے۔مسلمانوں نے متواتر تیرہ سال تک مشکلات اورمصائب برداشت کئے۔ماریں کھائیں اورعذاب سہے مگر اف تک نہ کی۔لیکن ان کافروں پر جب عذاب شرو ع ہوگااورمومنوں کی ترقی کے سامان ہوں گے تویہ کفار اسی دن ہتھیا ر ڈال دیں گے اورناامید ہوجائیں گے۔چونکہ کافرکو خدا پر ایمان نہیں ہوتا۔اس لئے و ہ ذراسی تکلیف سے بھی گھبراجاتاہے۔مگرمومن خداکے لئے سب کچھ دلیری اورجرأت سے برداشت کرتاہے۔قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ تو(انہیں)کہہ(کہ ہم میں سے )ہرایک (فریق )اپنے (اپنے)طریق پر عمل کررہا ہے پس (اپنے رب پر ہی اَهْدٰى سَبِيْلًاؒ۰۰۸۵ فیصلہ چھوڑ دو۔کیونکہ ) تمہارا رب اسے جو زیاد ہ صحیح راستہ پر ہے بہترجانتا ہے (اس لئے اس کافیصلہ سچے کی سچائی کو ضرور روشن کردےگا )۔