تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 412

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ١ۙ اورہم قرآن میں سے آہستہ آہستہ وہ( تعلیم) اتاررہے ہیں جو مومنوں کے لئے (تو)شفاء اوررحمت (کاموجب ) وَ لَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا۰۰۸۳ ہے۔اورجو ظالموں کو صرف خسار ہ میں بڑھاتی ہے۔حل لغات۔خسارًا۔خَسَارًاخَسِرَ کامصد رہے خَسِرَ التَّاجِرُ فِیْ بِیْعِہِ کے معنے ہیںتاجرکو اپنی تجارت میں گھا ٹا ہوا۔خَسِرَ الرَّجُلُ۔ضَلَّ گمراہ ہوگیا۔ھَلَکَ۔ہلاک ہوگیا (اقرب) تفسیر۔اس کامطلب یہ ہے کہ ایک ہی چیز مختلف نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔اورجیسی کسی کی فطرت ہوتی ہے۔ایسا ہی و ہ دوسر ی چیز وں کو سمجھتاہے۔کتناہی اعلیٰ اورپاک کلام کیوں نہ ہو۔لیکن گندے دل والے انسان کو اس میں گند ہی نظرآتے ہیں۔میں یہ دیکھ کرحیران رہ جاتاہوںکہ پنڈت دیانند صاحب کو قرآن مجیدکے ابتداء سے لےکر آخر تک اعتراض ہی اعتراض نظرآئے۔اورانہیں کوئی خوبی اس میں دکھائی نہ دی (ستیارتھ پرکاش باب ۱۴) یہی معنی اس آیت کے ہیں۔کہ ظالم اس پر نکتہ چینیا ں کرکے اور بھی اپنے گناہوں کو بڑھاتے ہیں۔ان عام معنوں کے علاوہ میرے نزدیک اس آیت کے یہ معنی بھی ہیں۔کہ اس جگہ قرآن سے مراد وہ خاص حصہ ہے جوپہلے اترچکا ہے۔یعنی مومنوں کی ترقی اورکامیابی کی پیشگوئیاں اوردشمنوں کی بربادی اور تباہی کی خبریں۔فرمایا کہ ان خبروں کے پوراہونے کا وقت آگیا ہے۔ان پیشگوئیوں کے نتیجہ میں مسلمانوں کے زخمی دلوں کو شفاحاصل ہوگی۔اوران کے زخم مندمل ہو ں گے۔ان کے ترقی کے سامان پیداہوں گے مگریہی پیشگوئیاں کافروں کے حق میں نقصان اور تباہی کے سامان ساتھ لائیں گی۔