تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 414
حلّ لُغَات۔شَاکِلَتِہٖ۔شَاکِلَۃٌ اس کامادہ شَکَلَ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں اَلشَّکْلُ۔صورت۔شکل۔اَلنَّاحِیَۃُ۔طرف۔اَلنِّیَّۃُ۔نیت۔اَلطَّرِیْقَۃُ۔طریق۔اَلْمَذْھَبُ۔راستہ۔مذہب۔اَلْحَاجَۃُ۔ضرورت (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے منکرین سے کہہ دے کہ ہرشخص اپنے اپنے طریق پراوراپنی اپنی شکل و صورت اپنی اپنی قابلیت۔اپنے اپنے دین اور اپنی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتاہے۔مومن کی نیت چونکہ خدا تعالیٰ کاحصول ہوتی ہے۔اس لئے وہ دنیا کے چلے جانے پرگھبراتانہیں۔بلکہ سب ابتلائوں کادلیری سے مقابلہ کرتا ہے۔لیکن کافرچونکہ دنیا پرست ہوتاہے او راس کاساراعمل دنیا کی خاطر ہوتاہے جب وہ دنیا کو جاتے دیکھتاہے توگھبراکرہتھیار ڈال دیتاہے۔فرمایا تمہارارب خو ب جانتا ہے کہ کون ہدایت کی راہ پر عمل کررہا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ بھی اس کے ساتھ ویساہی سلوک کرتاہے۔جیسی کہ اس شخص کی نیت ہوتی ہے۔فرمایاہم عمل کوبھی دیکھیں گے اورنیت کوبھی۔اورپھر دونوں کے مطابق معاملہ کریں گے۔جوخدا تعالیٰ کی رضاکو مدنظررکھیں گے اوراس کے دین کے لئے قربانیاں کریں گے۔ان کی تائید ونصرت کی جائے گی۔میں نےپچھلی آیات کی تفسیر میں کفار مکہ کومدنظر رکھا ہے لیکن یہی مضمون یہود کے متعلق بھی چسپا ں ہوتاہے۔اوروہ بھی اس میں شامل ہیں۔انہوں نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامقابلہ کیا۔اورآخر تباہ وبرباد ہوئے۔اورخیبر کی جنگ کے بعد ان کاعرب سے صفایا ہوگیا(تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحہ ۵۲)۔اور انہوں نے بھی دعوے توبڑے کئے مگر جب مسلمان مجبو رہوکر دفاع کے لئے کھڑے ہوگئے تواس طرح بزدلی سے ہتھیار ڈال دئے کہ ہمیشہ تاریخ ان کی بزدلی کی داستان بطور مثال قائم رکھے گی۔وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَ مَاۤ اورو ہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں تو(انہیں )کہہ(کہ )روح میرے رب کے حکم سے (پیداہوئی)ہے اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا۰۰۸۶ اور تمہیں (اس کے متعلق )علم سے کم ہی (حصہ )دیا گیاہے۔حل لغات۔الرُّوح الرُّوحکے لئے دیکھو حجرآیت نمبر ۳۰۔تفسیر۔روح کے متعلق مفسرین کے اقوال یہ روح جس کے متعلق سوال کیا گیاہے کیا چیز ہے ؟