تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 411
زھوق کا لفظ استعمال کرنے میں حکمت قرآن کریم کا یہ بے نظیر کما ل ہے کہ وہ ہرموقعہ کے لئے ایسے الفاظ چنتاہے جوایک لمبے مضمو ن پر دلالت کرتے ہیں۔اس آیت میں زَھَقَ کالفظ رکھا ہے۔اس کی جگہ ھَلَکَ اور بَطَلَ وغیرہ الفاظ بھی رکھے جاسکتے تھے۔مگر ان سے باطل کی تباہی کی اس تدریج کاعلم نہ ہوتا۔جوزھوق کے الفاظ سے بتائی گئی ہے۔زھو ق کے معنی کمزور ہوجانے او رہلا ک ہوجانے کے ہیں۔اوراسی طرح مکہ والوں سے گزری یہ نہیں کہ وہ یکد م تباہ ہوگئے۔بلکہ کمزو رہونے شروع ہو ئے پھر آہستہ آہستہ و ہ وقت آیا کہ بالکل فنا ہوگئے۔پس زھوق کے لفظ نے ہلاکت کی تفصیل بھی بتاد ی۔جب مکہ فتح ہوااورخانہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کوتوڑتوڑ کر پھینکا گیا۔اس وقت رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی آیت پڑھتے جاتے تھے۔ایک ایک بت پر ضرب لگاتے اورفرماتے جاتے تھے۔جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا(بخاری کتاب المغازی باب این رکز النبی الرایۃ یوم الفتح)۔یہ بھی قرآن کامعجزہ ہے کہ اس نے کعبہ سے بتوں کے دورکئے جانے کے موقعہ کے لئے جوآیت رکھی ہے۔و ہ شعر کی طرح موزوں ہے۔اس قسم کی خوشی کاموقعہ انسانی طبیعت کو شعر کی طرف راغب کرتا ہے۔قرآ ن شعر نہیں مگراس کی آیات کے بعض ٹکڑے شعرکی سی موزونیت رکھتے ہیں۔یہ آیت بھی اگراس کے شروع سے قل کالفظ اڑادیاجائے توشعر کی طرح موزوں ہوجاتی ہے۔جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُایک مصرعہ اوراِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔دوسرامصرعہ ہوتاہے۔قل نے اس کو شعرکی تعریف سے نکا ل دیا۔لیکن جب ا س کے پڑھنے کاموقعہ آیا توچونکہ اس آیت کو قل کے بغیر پڑھناتھا اس وقت یہ آیت اپنے شاندا رمعانی کے علاوہ ایک موزوں کلام کابھی کام دیتی تھی۔اوراس خوشی کے موقعہ کے عین مناسب حال تھی۔جَآءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ آیت پڑھتے دیکھ کر صحابہ کس طرح لہریں لے لے کر اس آیت کو پڑھتے ہوں گے اورکس طرح ان کے ایما ن ہرلحظہ او رہرمنٹ بڑھتے ہوں گے۔ا س کاانداز ہ اصحاب ذوق ہی لگاسکتے ہیں۔