تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 404
اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ توسورج کے ڈھلنے(کے وقت )سے لےکر رات کے خوب تاریک ہوجانے (کے وقت )تک (کی مختلف گھڑیوں وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ میں)نماز کوعمدگی سے اداکیاکر۔اورصبح کے وقت(قرآن )کے پڑھنے کوبھی (لازم سمجھ)صبح کے وقت كَانَ مَشْهُوْدًا۰۰۷۹ (قرآن )کاپڑھنایقیناً(اللہ تعالیٰ کے حضورمیں ایک )مقبول (عمل)ہے۔حلّ لُغَات۔دُلُوک۔دَلَکَتِ الشَّمْسُ دُلُوْکًا:غَرَبَتْ۔سورج غروب ہوگیا۔اِصْفَرَّتْ سورج زرد ہوگیا۔وَقِیْلَ مَالَتْ وَزَالَتْ عَنْ کَبِدِالسَّمَاءِ بعض نے کہا ہے کہ دَلَکَتِ الشَّمْسُ کے معنی سورج ڈھلنے کے ہیں۔(اقرب) غَسَق۔غَسَقَتْ عَیْنُہُ غسُوْقًا۔دَمَعَتْ وَقِیْلَ انْصَبَّتْ۔وَقِیْلَ اظْلَمَتْ۔اس کی آنکھ ڈبڈبا آئی۔بعض محققین لغت کے نزدیک اس کے معنی آنکھ کے بہنے یاآنکھ پر تاریکی چھاجانے کے ہوتے ہیں۔غَسَقَ اللَّیْلُ غَسَقًا اِشْتَدَّ ظُلْمَتُہُ یعنی را ت سخت تاریک ہوگئی۔اَلْغَسَقُ۔ظُلْمَۃُ اَوَّلِ اللَّیْلِ اَوْدُخُوْلُ اَوَّلِہِ حِیْنَ یَخْتَلِطُ الظَّلَامُ۔غسق رات کے پہلے حصے کی تاریکی کو کہتے ہیں یارات کی ابتداء میں تاریکی شروع ہونے کوغسق کہتے ہیں۔(اقرب) مشھودا۔مَشْھُوْدًایہ شَھِدَ سے اسم مفعول کاصیغہ ہے۔شَھِدَ کالفظ کسی جگہ پر حاضر ہونے اوراس پر اطلاع پانے کے معنوں میں استعمال ہوتاہے کہتے ہیں شَھِدَ الْمَجْلِسَ شُھُوْدًا:حَضَرَہُ، وَاطَّلَعَ عَلَیْہِ کہ وہ مجلس میںحاضر ہوا۔اوراس نے اسے دیکھا۔شَھِدَاللہُ اَیْ عَلِمَ اللہُ وَقَبِلَ اللہُ جب اللہ تعالیٰ کے لئے شَھِدَ کالفظ استعمال ہو تواس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو جانااوراسے قبول فرمایا۔وَقِیْلَ کَتَبَ اللہُ۔بعض کے نزدیک اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عمل کولکھ لیا۔(اقرب) تفسیر۔ان آیات میں مسلمانوں کو آنے والی خطرناک مشکلات کامقابلہ کرنے کے لئے تیار کیاگیا ہے۔