تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 403
نکال دیتے جس کی وجہ سے تیرااثر عرب پرسے اٹھ جاتااورگویا تیرامعنوی طو رپر خاتمہ ہوجاتا۔یہ معنے پہلی آیات کےساتھ بالکل مطابق آتے ہیں اور میرے نزدیک یہی مراد ہے اوربتایا یہ گیاہے کہ اگریہ اس ارادے میں کامیاب ہوجاتے کہ ہتک کرکے تجھے مکہ سے نکالتے تواس کانتیجہ یہ نکلتاکہ تیرے بعد جلد ہی عذاب میں مبتلاکرکے ان کوتباہ کردیاجاتا مگراللہ تعالیٰ نے فضل کرکے تجھے آپ ہی ہجرت کاحکم دےدیا اوران کو تیری ہتک کے گناہ سے بچاکر شدید سزاسے محفوظ کردیا اورتیر ی عزت کوقائم رکھ کر اپنی محبت کاثبوت دیا۔سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ (اورتجھ سے بھی )ان (گذشتہ انبیاء )کی طرح (سلوک ہوتا)جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے (رسول بناکر )بھیجاتھا۔لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًاؒ۰۰۷۸ اورتوہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہ پائے گا۔تفسیر۔مخالفین کے ہتک آمیز سلوک سے ان پر توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اس آیت میں یہ بتایاہے کہ ہماری یہ قدیم سے سنت ہے کہ جب کسی نبی کو اس کی قوم ہتک آمیز سلوک کرکے نکالتی ہے تواس پر توبہ کادروازہ قریباً بند ہو جاتا ہے اورسخت تباہ کردینے والے قومی عذاب میں مبتلاہوجاتی ہے۔اس کی مثال قوم صالح ہے جنہوں نے صالح کی اونٹنی کومار کران کے تبلیغی سفروں کو بند کردیا یاپھر یہود ہیں کہ انہوںنے مسیح کو صلیب پر لٹکایااوراس کے بعد حضرت مسیح ؑ کوملک چھوڑناپڑا۔یہ دونوں قومیں بالکل برباد کردی گئیں۔قوم صالح توظاہری طور پر تباہ ہوگئی اوریہود اخلاقی اورسیاسی موت میں مبتلاہوگئے۔اللہ تعالیٰ نے چونکہ عربوںکو ایسی موت سے بچانے کافیصلہ کیاتھاان کو اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہونے دیااورا س طرح اس عذاب سے بچالیا۔