تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 405

ایک طرف ہجرت کے بعدان قوموں سے مقابلہ ہونے والاتھا۔جوظاہر میں عبادت گذار تھیں۔اورمسلمانوں کی سستی انہیں اعتراض کاموقعہ دے سکتی تھی۔دوسری طرف مسلمانوں کو جلد فتوحات ملنے والی تھیں جس سے عبادات میں سستی ہوجاتی ہے۔پس دونوں امو رکو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو ہوشیار کیا۔کہ دشمن کے طعن کا نشانہ اسلام کونہ بنانا۔اورنہ سست ہوکر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو کھو دینا۔پانچوں نمازوں کے اوقات کا ذکر اس آیت میں اس آیت میں پانچوں نمازوں کے اوقات بتائے گئے ہیں۔دلوک کے تین معنی ہیں۔اورہرایک معنی کے روسے ایک ایک نماز کا وقت ظاہرکردیاگیا۔(۱)مَالَتْ وَزَالَتْ عَنْ کَبِدِ السَّمَاءِ یعنی زوال کو دلو ک کہتے ہیں۔اس میں ظہر کی نماز آگئی (۲)اِصْفَرَّتْ۔جب سورج زرد پڑ جائے تواس کوبھی دلوک کہتے ہیں اسمیں نماز عصر کا وقت بتادیاگیا۔(۳)تیسر ے معنی غَرَبَتْ یعنی غروب شمس کے ہیں اس میں نماز مغرب کا وقت بتایاگیاہے (۴)غَسَقِ الَّيْلِ کے معنی ظُلْمَۃُ اَوَّلِ اللَّیْلِ کے ہیں۔یعنی رات کے ابتدائی حصہ کی تاریکی۔اس میں نماز عشاء کا وقت مقرر کردیاگیا۔(۵)قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کہہ کر صبح کی نماز کاارشاد فرمایا۔اس کے سواکوئی اورتلاوت صبح کے وقت فرض نہیں ہے۔اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا۔احادیث میں آتاہے کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔کہ صبح کی نماز کے وقت دن کے فرشتے آتے ہیں اوررات کے فرشتے چلے جاتے ہیں۔و ہ فرشتے جب خداکے پاس جاتے ہیں۔تودریافت کرنے پرکہتے ہیں۔کہ ہم جب دنیا میں گئے۔توتیرے بندوں کونماز پڑھتے ہی دیکھا اورواپس آئے ہیں تونماز پڑھتے ہی چھوڑ کرآئے ہیں۔عَنْ اَبِی ھُرِیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ تَشْھَدُ ہُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃُا لنَّھَارِ۔(الترمذی کتاب التفسیر باب سورۃ بنی اسرائیل)اس کامطلب یہ ہے کہ صبح کی نماز خاص طورپر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔اورخاص ہی طور سے مقبول ہوتی ہے کیونکہ ا س وقت انسان میٹھی نیند کو چھو ڑ کراٹھتاہے۔صبح کی نماز دراصل عام مسلمان کی تہجد ہی کی نماز ہے۔بلاشبہ جوانسان صبح کی نماز پڑھے گا۔اگراس نے وہ نماز ایمانداری سے پڑھی ہوگی توباقی نماز یں بھی اس کے لئے آسان ہوجائیں گی۔