تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 402
ہوسکتا۔اس لئے زیادتی پردلالت کرنے کے لئے بڑے کے لفظ سے ضعف کا ترجمہ کردیاگیا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اگرتورسول نہ ہوتا اوربعض چھوٹی باتوں میں اپنی قوم کے ساتھ شامل ہوجاتا توپھر ان کو کیا فائدہ ہوتا۔اس وقت توان کی نجات کا موجب تونہیںہوسکتا تھا بلکہ خود عذاب کامستحق ہوتا۔پھر ان کو تیری تائیدسے کیافائدہ تھا۔مطلب یہ کہ نبی کی سب عظمت کلام الٰہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔کفاراس امر کومحسوس نہیں کرتے اورسمجھتے ہیں کہ یہ کوئی خاص لیاقت کاآدمی ہے اگر اپنی تعلیم میں تبدیلی کرے اورہمارے ساتھ مل جائے توہماری قوم شائد خاص ترقی کرجا ئے۔حالانکہ ان کایہ خیال باطل ہے۔نبی کوکمال وحی سے حاصل ہوتاہے۔وہ وحی جاتی رہے توو ہ بھی دوسر ے آدمیوں کی طرح ہوجائے پس ایسی خواہشات محض لغو اوربے فائد ہ ہیں۔یہاںپر ضعف کے معنے مثل کے ہیں اورمضاف حذف کردیاگیاہے گویااصل یو ںہے۔مِثْلُ عَذَابِ الْحَیٰوۃِ مِثْلُ عَذَابِ الْمَمَاتِ یعنی جس طرح دوسروں کو دنیا کاعذاب اورآخرت کاعذاب ملتاہے۔ویساہی اگر نبی خدا تعالیٰ کی وحی سے ہدایت پاکر خدا تعالیٰ کی رضاحاصل نہ کرے۔تووہ بھی باقی قوم کی طرح عذاب میں پکڑاجائے۔وَ اِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اوروہ یقیناًتجھے اس ملک سے نکالنے پر تلے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا۔کہ وہ تجھے نکال ہی دیں گے۔اوراس اِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا۰۰۷۷ صورت میں و ہ تیرے بعد (خود بھی )تھوڑا(عرصہ)ہی (یہاں )رہیں گے۔تفسیر۔اِسْتَفَزَّہُ مِنَ الْاَرْضِ کے معنے زمین سے نکال دینے کے ہیں۔پس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ قریب تھا کہ یہ لوگ تجھے اس زمین سے نکال دیتے۔مگراس کے آگے فرماتا ہے ’’تاکہ یہ تجھے نکال دیں ‘‘۔ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ استفزازکے معنے کچھ اورہیں ورنہ تکرار فضول لازم آتاہے۔لیکن اگر لِيُخْرِجُوْكَ کے معنے معنوی اخراج کے لئے جائیں توتکرار نہیں رہتا۔اس صورت میںآیت کے معنے یہ ہوں گے کہ یہ لوگ قریب تھا کہ تجھے ملک سے اس طرح نکال دیتے کہ اس کانتیجہ یہ ہوتاکہ توان کی قومی زندگی سے نکل جاتا یعنی تجھے ذلیل کرکے