تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 399
توآپ کو پکڑ کر لانے والے کے لئے سو اونٹ کاانعام مقرر کیا۔(بخاری کتاب المناقب باب ہجرۃ النبی صلعم )اگر صرف نکال دینا ان کے ارادوں میں شامل ہوتا توآپؐ کے جانے پر وہ لوگ خوش ہوتے۔نہ یہ کہ آپ کاتعاقب کرتے اورپھر آپ کے پکڑ لانے والے کے لئے انعام مقررکرتے۔پس کفار کاآپؐ کی ہجرت کے بعد کافعل بتاتاہے کہ وہ آپ کے نکل جانے کوکافی نہ سمجھتے تھے بلکہ چاہتے تھے کہ آپ کو اس طرح ذلیل کرکے نکالیں کہ یاتوآپ نعوذ باللہ اپنی تعلیم سے باز آجا ئیں یاآپ کی ایسی سُبکی ہو کہ جس جگہ جائیں و ہ داغ آپ کے ساتھ جائے اوراس اراد ہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں ناکام رکھا۔خلاصہ کلام یہ کہ یہ سورۃ ہجرت کے قریب کی ہے جس وقت کفار مقابلہ سے ہر طرح عاجز آکر مایوسی کے جوش میں اس بات پر تُل گئے تھے کہ قید کرکے ،قتل کی دھمکی دے کر یا ذلیل کرکے نکالنے کاڈراوادے کر آپ کوقرآن کی تعلیم سے پھرائیں اوراگر ا س کااثر نہ ہوتو پھر اپنے بدارادوں کو مکمل کرکے آپ کی جسمانی یااخلاقی زندگی کاخاتمہ کردیں۔مگراللہ تعالیٰ نے ان کو اس اراد ہ میں بری طرح ناکام رکھا اوراسی ناکامی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیاگیاہے نہ اس امر کی طرف کہ نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی کمزور ی آسکتی تھی یاآنے کاامکا ن تھا۔وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا میں یہ بتایاہے کہ اگریہ عذاب دے کرتجھے سچائی سے پھرانے میں کامیاب ہوجاتے توتجھے اپنادوست بنالیتے۔اس میں بھی کفار کی ہی اخلاقی حالت کوبیان کیاگیاہے نہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی کمزوری کو۔کفار باربار کہتے تھے کہ اگرمحمد رسول اللہ صلعم اپنی تعلیم میں کفار کی خاطر کچھ بھی نرمی کرلیں تووہ انہیں اپنا سردار بنالیں گے۔چنانچہ ایک دفعہ ان کاوفد آپ کے چچا ابوطالب کے پاس آیا اوریہ تجویز کی کہ ہم اب بھی یہ نہیں کہتے کہ محمد(صلعم)شرک کرے بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معبودوںکوبُرانہ کہے۔اگر یہ اتنا ہی کردے توہم اسے اپناسردار بنالیں گے (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام باب مباداۃ رسول اللہ قومہ وما کان منہم)۔انہی واقعات کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے اوربتایا ہے کہ جب لالچ دے کرکامیاب نہ ہوسکے توانہوں نے ظلم کرکے تجھے مجبورکرنے کااراد ہ کیا۔مگرخدا تعالیٰ نے اس میں بھی انہیں ناکام رکھا۔اورناکام رکھے گا۔مگران کے یہ ارادے خود ان کے اخلاق پر جوروشنی ڈالتے ہیں و ہ ان کے لئے کیسی شرمناک ہے۔ان کی یہ کوششیں بتاتی ہیں کہ انہیں تیری عظمت کااقرار ہے۔تبھی توکسی نہ کسی صورت سے تیری تائید حاصل کرناچاہتے ہیں۔مگراس قسم کی تائید پر خوش ہونا نہایت پست اخلاق پر دلالت کرتاہے۔