تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 400
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَيْهِمْ شَيْـًٔا اور(تیراتویہ حال ہے کہ )اگر ہم تجھے (قرآن دےکر )ثبات نہ بخشتے (اوروحی بھی تجھ پر نازل نہ ہوتی )توتُو(اس قَلِيْلًاۗۙ۰۰۷۵ صورت میں بھی اپنی فطر ت کی پاکیزگی کی وجہ سے )قریب ہوتا کہ ان کی طرف کچھ (چھوٹی چھوٹی )باتوں میں جھک جاتا (مگرعملاً پھر بھی ان کے ساتھ شامل نہ ہوتا )۔حلّ لُغَات۔ثَبَّتْنَاکَ ثَبَّتَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے۔ثَبَتَ کے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر۲۸۔یَثْبِتُ ثَبَتَ کا مضارع ہے۔جس کا مجرد ثَبَتَ ہے اور ثَبَتَ الْاَمْرُ عِنْدَ فُلَانٍ کے معنے ہیں تَحَقَّقَ وَ تَأَکَّدَ۔کوئی امر کسی کے نزدیک یقینی طور پر ثابت ہو گیا۔ثَبَتَ فُلَانٌ عَلی الْامْرِ۔دَاوَمَہُ۔کسی کام پر دوام اختیار کیا۔وَاَثْبَتَہُ وَثَبَّتَہُ : جَعَلَہُ ثَابِتًا فِی مَکَانِہِ لَایُفَارِقُہُ۔اور اَثْبَتَہُ اور ثَبَّتَہُ کے معنے ہیں اس کو اس کی جگہ پر ایسے طور پر ثبات بخشا اور مضبوط رکھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکے۔سو ثابت کے معنے ہوں گے اپنی جگہ پر مضبوط رہنے والا۔(اقرب) ترکن :تَرْکُنُ رَکَنَ سے واحد مخاطب کاصیغہ ہے اور رَکَنَ اِلَیْہِ کے معنے ہیں مَالَ اِلَیْہِ اس کی طرف مائل ہوا(اقرب)پس كِدْتَّ تَرْكَنُ کے معنے ہوں گے کہ تومائل ہو جاتا ہے۔تفسیر۔یہ آیت اس تشریح کی تائید کرتی ہے جومیں نے اوپر بیان کی ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگرہم نے تجھے ثبات نہ بخشا ہوتاتوپھر ممکن تھاکہ تُوتھوڑاسا ان کی طرف مائل ہوجا تا۔یعنی ثبات اگر حاصل نہ ہوتاتب بھی توان لوگوں کے ساتھ پوری طرح نہ مل سکتاتھا بلکہ ایک خفیف سااشتراک تیرے اوران کے خیالات کاہوسکتا تھا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے روسے ثَبَّتْنٰكَ کے کیا معنے ہیں۔قرآن کریم میں دوسر ی جگہ فرماتا ہے۔يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ(ابراہیم :۲۸)یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کوقول ثبات یعنی وحی کے ذریعہ سے اس دنیا کی زندگی اورآخری زندگی کے اعمال پر ثابت قدم رکھتاہے۔اسی طرح سورۃ فرقان میں فرماتا ہے۔كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ (الفرقان:۳۳) یعنی کفار اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن یکد م کیوں