تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 398

کے ہیں اورعن کالفظ تعلیل کے معنوں میں آیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ پر بھی ان معنوں میں یہ لفظ استعمال ہواہے فرماتا ہے کفار نے کہا کہ وَ مَا نَحْنُ بِتَارِكِيْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ (ھود:۵۴)ہم تیرے کہنے کی وجہ سے اپنے معبودوں کونہیں چھوڑ سکتے۔عن کے یہ معنے لےکر آیت کایہ مطلب بنے گا کہ قریب تھا کہ کفار تجھ کو اس کلام کی وجہ سے جو تجھ پر وحی کیا گیاہے عذاب میں مبتلاکرتے۔اوران کی غرض ایساکرنے کی یہ ہوتی۔کہ توہم پر افتراء کرکے قرآن کی تعلیم کے خلاف کوئی اورتعلیم بیان کرے۔ان معنوں کے روسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان پر کوئی حرف نہیں آتابلکہ اس میں یہ بتایا گیاہے کہ کفار کے ارادے تیر ے متعلق بڑے بڑے سخت تھے و ہ چاہتے تھے کہ تجھے پکڑ کر سخت عذابوں میں مبتلاکریں اور ان عذابوں سے تجھے مجبور کریں کہ توقرآن کوچھوڑ کران کے مطلب کی بات بیان کرے۔اس سارے مضمون میں رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل یااراد ہ فعل کا ذکر نہیں بلکہ سارا کا سارا فعل کفار کا ہے اوربتایاگیا ہے کہ کلام سے پھراناتوان کی طاقت میں نہ تھا۔اس غرض سے عذاب دینے کے ارادہ سے بھی و ہ روکے گئے۔اوراس اراد ہ میں بھی خدا تعالیٰ نے ان کوناکام رکھا۔قرآن کریم میں کفارکے ان ارادوں کا ایک دوسری جگہ ان الفاظ میں ذکر آیا ہے۔وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ (الانفال :۳۱) یعنی یاد کر اس وقت کو کہ کفار تیرے متعلق یہ ارادے کررہے تھے کہ تجھے قید کردیں یاتجھے قتل کردیں یاتجھے نکال دیں۔و ہ تیرے ذلیل کرنے کی تدبیریں کررہے تھے اوراللہ اپنی تدبیروں میں لگاہواتھا اوراللہ ہی بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔یعنی آخرخدا تعالیٰ کی تدبیرکامیاب ہوئی اورکفا ر کے ارادے باطل ہوئے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دبائو ڈالنے کےلئے قید،قتل اور جلاوطنی کے ارادے کررہے تھے۔مگرخدا تعالیٰ نے ان کو ناکام رکھا۔اسی مضمون کی طرف یہاں اشارہ ہے اوریہاںبھی یہی بتایا گیاہے کہ کفار عذاب دینے کے ارادہ میں ناکام رہے۔کفار مکہ اپنے سب ارادوں میں ناکام رہے اس جگہ یہ کہا جاسکتاہے کہ قید اورقتل کے ارادوں میں تووہ ناکام ہوئے مگر اخراج کے ارادہ میں توکامیاب ہوگئے۔توا س کا جواب یہ ہے کہ اس اراد ہ میں بھی وہ ناکام رہے کیونکہ کفار کااراد ہ یہ نہ تھا کہ آپؐ کو صرف وہاںسے نکال دیں۔کیونکہ اس سے ان کی غرض پوری نہ ہوتی تھی۔ان کاارادہ تویہ تھاکہ ذلیل کرکے نکالیں تادنیا میں آپ کی بدنامی ہو۔مگراللہ تعالیٰ نے آپؐ کو قبل از وقت خبر دےدی اورآپ خود ہجرت کرگئے اوریہ امر ان کی سازش کے مطابق نہ تھا۔بلکہ خلاف تھا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جب معلو م کیا کہ آپ عزت کے ساتھ ہجرت کرگئے ہیں توآپ کاتعاقب کیا اورجب خود پکڑنے میں کامیاب نہ ہوئے