تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 397
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خواہش ظاہر کی کہ اگر آپ ہمارے بتوں کوادب سے چھو لیں توہم آپ کے ساتھ ہوجائیں گے اس پر نعوذباللہ من ذالک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں خیال گذراکہ اللہ تعالیٰ کوتو میرے توحید کے عقیدہ کاعلم ہے۔اگر میںا س طرح کرلو ں اورقوم کوہدایت ہوجائے توکیا حرج ہے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) یہ معنے اس آیت سے ہرگز نہیں نکلتے اورنہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کے مطابق یہ معنے ہیں اورعلاوہ ازیں اگلی آیات ا س مضمون کے بالکل الٹ مضمون کو بیا ن کررہی ہیں۔کَادَ کے لفظ کا استعمال اس آیت میں کَادَ کالفظ آیا ہے۔کاد کالفظ جب استعمال کیاجائے تواگر وہ مثبت ہوتو معنے یہ ہوتے ہیں کہ کَادَ کے بعد کافعل نہیں ہوا۔اوراگرکاد سے پہلے نفی کاحرف آئے تو کاد کے بعد کے فعل کے متعلق یہ سمجھاجاتاہے کہ وہ فعل ہوگیا (مفردات)۔اس آیت میں کاد مثبت استعمال ہواہے۔اس لئے کاد کے بعد کے فعل کے متعلق یہ سمجھا جائے گاکہ و ہ فعل صادرنہیں ہوا۔اس آیت میں کَادَ کے بعد لَیَفْتِنُوْنَکَ کے الفاظ ہیں۔پس کاد کے استعمال کے مطابق اس آیت کایہ مطلب ہوگا کہ فتنہ کافعل صادر نہیں ہوا۔فتنہ کے معنے ابتلاء میں ڈالنے کے بھی ہوتے ہیں (اقرب)۔اور اس کے معنے عذاب میں مبتلاء کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔اگر اس کے معنے ابتلاء میں ڈالنے کے لئے جائیں توآیت کے یہ معنے ہوں گے کہ قریب تھا کہ کفار تجھے ابتلا ء میں ڈال دیتے۔مگر وہ ڈال نہ سکے اوراگر فتنہ کے معنے عذاب کے کئے جائیں تومعنے یہ ہوں گے کہ قریب تھا کہ یہ لوگ تجھ کو عذاب میں ڈال دیتے مگروہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ابتلاء کے معنوںسے اس طرف بھی اشارہ نکلتاہے کہ گویا قریب تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے دبائوکومان کرقرآن میں تبدیلی کرنے پرتیار ہوجاتے۔گوآپ نے ایساکیانہیں۔ظاہر ہے کہ یہ معنے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہیں۔کسی شریف آد می کی نسبت یہ کہناکہ قریب تھا کہ و ہ چوری کرلیتا۔قریب تھا کہ وہ ظلم کرتا۔قریب تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کو پیٹتا یقیناً اس کی ہتک کرنے والا فقرہ ہے پس خداکے رسو ل کی نسبت یہ کہناکہ قریب تھا کہ وہ خدا پر افتراء کرلیتا بالکل غلط اورخلاف واقعہ ہے۔مفسرین کااس امر پر خوش ہوجانا کہ آپ نے ایساکیا تونہیں کافی نہیں۔کیونکہ خداکے نبی بدی کے قریب بھی نہیں جاتے۔اورخدا تعالیٰ پر افترا ء توایسا فعل ہے کہ ایک ادنیٰ مومن کے متعلق بھی شبہ نہیں کیاجاسکتاکہ اس کاارتکاب توالگ رہا اس کے قریب بھی جائےگا۔پس میرے نزدیک اس قسم کے معنے کرنے میں قدیم و جدید مفسرین نے سخت غلطی کی ہے۔اس آیت کے معنی آنحضرت ؐ کی شان کے مطابق میرے نزدیک اس آیت میں فتنہ کے معنے عذاب