تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 368

اب قُلْ لِّعِبَادِيْ سے شروع فرمایا۔اس ترتیب کو دیکھ کر کوئی شخص کیونکر کہہ سکتاہے کہ قرآن کریم میں کوئی ربط نہیں ہے۔اس آیت میں نصیحت کی گئی ہے کہ نہایت سوچ سمجھ کر کلام کیاکرو اور دوسرے لوگوں سے ایسے رنگ میں گفتگو کروجس سے ان کے دلوں پر اچھا اثر ہو۔اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ اس آیت میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان کو تواپنے دوستوں سے بھی اچھی بات کرنی چاہیے۔لیکن جبکہ دشمن دوسرے لوگوں کے دلوں میں نفرت اورعداوت پیداکررہاہو۔تب تواوربھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔پس ایسے طریق سے کلام کرو اورگفتگو میں ایسی راہ اختیار کروجودوسروں کوبھی نرم کرلے۔شیطان سے بدکردار انسان بھی مراد ہوسکتے ہیں اوروہ مخصوص ہستی بھی۔کیونکہ وسوسہ اندازی اس کاکام ہے۔اس آیت میں یہ بھی اشا رہ کیا ہے کہ اگر تم چاہتے ہوکہ یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ والی بعثتِ اسلامی جلد ظہور پذیر ہو تو ایساطریق اختیارکرو کہ یہ لوگ جلد مسلمان ہو ں۔اس سے یہ بھی پتہ لگ گیا کہ تَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ سے اسلام قبول کرنا ہی مراد ہے۔رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ تمہارارب تمہیں(سب سے )زیادہ جانتا ہے اگر وہ چاہے گاتوتم پر رحم کرے گااوراگر وہ چاہے گاتوتمہیں عذاب يُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا۰۰۵۵ دے گا اور(اے رسول )ہم نے تجھے ان کاذمہ وار بناکرنہیں بھیجا۔تفسیر۔فرمایاہم ہی انسان کی دونو حالتوں کو جاننے والے ہیں۔نیکی کی حالت کو بھی اوربدی کی حالت کو بھی اوردل کاحال ہمارے سواکوئی نہیں جانتا۔اس لئے ہم نے جزاسزاکامعاملہ اپنے ہاتھ میں رکھاہواہے اَورکسی کے ہاتھ میں نہیں دیا۔حتٰی کہ رسول اللہ کے سپرد بھی نہیں کیا۔پس جیسے جیسے تمہاری حالتیں بدلتی جائیں گی ہمارامعاملہ بھی بدلتاجائے گا۔