تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 369

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا اورجو(کوئی بھی )آسمانوں اورزمین میں (بسنے والے )ہیں انہیں تمہارارب(سب سے )زیادہ جانتاہے اورہم بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا۰۰۵۶ نے یقیناً انبیاء میں سے بعض کو بعض (دوسر ے انبیا ء )پر فضیلت دی ہے اوردائود کو(بھی)ہم نے ایک زبور دی تھی تفسیر۔پہلی آیت میں انبیاء کے مخاطبین کو جاننے کا ذکرفرمایاتھا اب ا س آیت میں فرماتا ہے جس طرح ہم ان کو جانتے ہیں اسی طرح انبیاء کو بھی جانتے ہیں خواہ آسمان پر ہوں یعنی وفات یافتہ ہوں یازمین پرہوں یعنی زندہ ہوں۔یادوسرے لفظوں میں یہ کہ محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی خوب جانتے ہیں اوراس سے پہلے کے نبیوں کو بھی۔اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کس زمانہ میں کیسے نبی کی ضرورت ہوتی ہے اوراسی خیال سے ہم نے انبیاء کے بھی مدارج مقر رفرمائے ہیں۔تاکہ ہرزمانہ کی ضرورت کے مطابق نبی آئے۔ان انبیاء میں سے دائود علیہ السلام کا ذکرالگ بھی بیان فرمایا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود کے ذکر میں ان کے دوعذابوں کا ذکرفرمایاتھا۔ایک حضرت دائود کے بعد جب کہ یہود میں دولت بہت ہوگئی اورتعیّش پیداہوگیا۔اور دوسرے حضرت مسیح ؑ کے بعد ان کے انکار کی وجہ سے۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ مثیل موسیٰ ہیں جیساکہ فرمایا۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (المزمل:۱۶)ہم نے تم پر گواہ بناکر تمہارے اندر اپنا رسول بھجوایا ہے اوریہ بعثت ویسی ہی ہے جیسا کہ فرعون کی طرف موسیٰ ؑ کی بعثت تھی۔اورتورات میں ایک مثیل موسیٰ کی خبردی گئی تھی۔استثناء باب ۱۸آیت ۱۸۔اوراس کے مقابل پر امت محمدیہؐ کے مثیل بنی اسرائیل ہونے کی خبر سورۃ فاتحہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی دی گئی تھی۔اس لئے اسی مشابہت کی بناء پر حضرت دائود کانام مسلمانوں کونصیحت کرتے وقت خاص طورپرلیا۔تاانہیںتوجہ دلائی جائے کہ اے مسلمانوں!ترقی اورکامیابی کے وقت دائود کاواقعہ یاد رکھنا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ جس طرح دائود کے زمانہ میںیہود نے دنیوی ترقیات سے فائدہ کی بجائے نقصان اٹھایا۔اوردین سے غافل ہوگئے۔تم بھی کہیں ایسا نہ کرنا اوراس وقت کوخوف اورخشیت سے گذارنا۔امت محمدیہ کی مماثلت بنی اسرائیل سے باوجوداس انذارکےمسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے