تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 367
وَ قُلْ لِّعِبَادِيْ يَقُوْلُوا الَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ اورتومیرے بندوں سے کہہ(کہ)وہ وہی بات کہا کریں جو (سب سے )زیادہ اچھی ہو يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا (کیونکہ)شیطان یقیناًان کے درمیان فساد ڈالتاہے۔شیطان انسان مُّبِيْنًا۰۰۵۴ کا کھلا (کھلا )دشمن ہے۔حلّ لُغَا ت۔یَنْزَغُ:یَنْزَغُ نَزَغَسے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اورنَزَغَ کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۱۰۱۔نَزَغَہُ: طَعَنَ فِیْہِ۔نزغ کے معنے ہیں طعنہ زنی کی۔اِغْتَابَہُ کسی کی غیبت کی۔وَذَکَرَہُ بِقَبِیْحٍ۔اور اس کے متعلق بدگوئی کی۔اور نَزَغَ بَیْنَ الْقَوْمِ کے معنی ہیں اَغْرٰی وَاَفْسَدَ وَحَـمَلَ بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ۔کہ قوم کے درمیان بگاڑ و فساد ڈالا اور ایک کو دوسرے کے خلاف برانگیختہ کیا۔اور نَزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنَہُمْ انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ شیطان نے ان کے درمیان بگاڑ ڈال دیا۔(اقرب) تفسیر۔باوجود سورتوں کے آگے پیچھے نازل ہونے کے پھر بھی مضامین میں ترتیب ہے قرآن کریم کو پڑھ کر کیاہی لطف آتاہے ایک سورۃ پہلے نازل ہوئی ہے اوردوسری سورۃبعد میں۔پھر پہلی کوترتیب میں بعد میں رکھ دیاگیا ہے اوربعد والی کو پہلے۔لیکن ان کے مضمو ن اس طرح ایک جا ن ہوجاتے ہیں جیسے کہ ایک وقت میں لکھی ہوئی کتاب کے دوباب۔سورۃ النحل میں فرمایا تھا۔اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ (النحل:۱۲۶)۔اسی ترتیب کے مطابق سور ۃ بنی اسرائیل کوشروع کیاگیاہے۔چنانچہ قرآن پاک کی تعلیمی خوبیوں کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ذٰلِکَ مِمَّآاَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ(بنی اسرائیل:۴۰)کہ یہ حکمت کی باتیں ہیں۔اس کے بعد وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ سے کلام شروع کیا اورالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ والی شق کو پوراکیا۔طریق گفتگو کے متعلق نرمی کی تاکید تیسری بات یہ فرمائی تھی وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ۔اس کا جواب