تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 366
يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ (یہ وعدہ اس د ن پوراہوگا)جس دن وہ تمہیں بلالے گاتوتم اس کی تعریف کرتے ہوئے اس کاحکم مانو گے (اورفوراً لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًاؒ۰۰۵۳ حاضر ہوگے)اور تم سمجھ رہے ہو گے کہ تم (دنیا میں )تھوڑاہی ٹھیرے تھے۔تفسیر۔اس آیت نے ظاہرکردیا کہ وہ حشر جس کایہاں ذکر ہے۔اسی دنیا میں ہوگا۔چنانچہ فرماتا ہے کہ حشر اس دن مقر ر ہے جبکہ تم کو خدا تعالیٰ یااس کارسولؐ بلائے گااور تم مردوں کی طرح خاموش نہیں رہوگے جس طرح آج خاموش ہو۔بلکہ اس دن تم میں سے اکثر محمد رسول اللہؐ کی بات پرلبیک کہتے ہوئے دوڑ پڑیں گے اورتسبیح کرنے لگیں گے اوراس وقت تم حیران ہو گے کہ خواہ مخواہ ہم اسلامی ترقی کے ظہور کے زمانہ کو لمباسمجھتے رہے۔اسلامی ترقی کا زمانہ توبڑی جلدی آگیا۔یہ بھی معنے ہوسکتے ہیں کہ جب لو گ ایمان لائیں گے اپنی کفر کی زندگی کو بہت حقیر سمجھیں گے۔اور سمجھیں گے کہ اصل پیدائش توہماری اب ہوئی ہے۔اسی طرح مومن بھی تکالیف کے ایام کو بھول جائیں گے۔اورسمجھیں گے کہ یہ دن توآنکھ جھپکتے گذر گئے۔غرض آیت میں زمانہ کی لمبائی کا ذکر نہیں بلکہ ان احساسات کا ذکر ہے جواس وقت پیداہوں گے۔ایک حدیث میں آتاہے کہ لَیْسَ عَلٰی اَھْلِ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْشَۃٌ فِی قُبُوْرِھِمْ وَلَافِی مَنْشَرِھِمْ وَکَاَنِّیْ بِاَھْلِ لَااِلٰہَ اِلّااللہُ یَنْفَضُوْنَ التُّرَابَ عَنْ رُؤُ وْسِہِمْ وَیَقُوْلُوْنَ اَلْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحُزْنَ(روح المعانی زیر آیت ھذابحوالہ ترمذی وطبری و معجم ) کہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہنے والوں کوقبر میں اور حشر میں بھی آرام ہی رہے گا۔اوران کی وہ حالت گویا میں اب دیکھ رہاہوں جبکہ وہ حشر کے دن اٹھیں گے اوراپنے سر سے مٹی جھاڑ رہے ہوں گے اوریہ کہتے جاتے ہوں گے کہ اللہ کاشکر ہے جس نے ہرقسم کے غم ہم سے دور کردئے۔گویاراحت اورترقی کے ملتے ہی سب غم و حزن دور ہوجائیں گے اوراس زمانہ کووہ نہایت مختصرخیال کرنے لگیں گے۔