تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 365

سے نتیجہ نکالتاہوں کہ ممکن ہے انسانی جسم میں لمبے عرصہ کے بعد ایساتغیر پیداہوجاتا ہو کہ وہ کسی دوسرے مادہ کی شکل میں تبدیل ہوجاتا ہو۔سائنس کی تحقیقات سے توثابت ہے کہ کئی درخت جو کسی وقت زمین میں د ب گئے تھے۔تغیرات زمانہ کے بعد پتھر کاکو ئلہ بن گئے(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ coal)۔اسی طرح یہ کہ ہیراکوئلہ سے ہی بناہے۔پس یہ تعجب کی بات نہیں۔کہ انسانی جسم مرنے کے بعدزمین میں ایک لمباعرصہ دفن رہنے پرپتھر بن جائے گوابھی تک آثار قدیمہ سے ایساکوئی نشان نہیں ملا۔مگر یہ عقل کے خلاف نہیں۔پس میرے نزدیک اس جملہ سے اس طرف اشارہ کیا گیاہے کہ خواہ انسانی دورحیات پرلاکھو ں کروڑوں سال کاعرصہ گزر جائے جس سے انسانی اجزاء کی جو زمین میں دفن ہیں شکل ہی تبدیل ہوجائے تب بھی انسان دوبار ہ بعث سے نہیں بچ سکتا بعث ضرو ر ہوگا۔مَنْ يُّعِيْدُنَاسے یہ مراد نہیں کہ وہ سنجید گی سے سوال کرتے ہیں۔کہ انہیںکون پیداکرے گا بلکہ یہ تمسخر ہے کہ دکھلائو تو سہی جوکہتاہے کہ ایساہوگا۔جیسے ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ ذرااس کامنہ تودکھلائو جوایساکرنے کادعویدار ہے مطلب ا س سے صرف انکار ہوتا ہے۔فَسَيُنْغِضُوْنَ۠ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ۔اَنْغَضَ فُلَانٌ رَاْسَہُ:حَرَّکَہُ کَالْمُتَعَجِّبِ مِنَ الشَّیْءِ۔یعنی سرکوہلایا ایسے انسان کی طر ح جوکسی بات سے تعجب کررہا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ وہ سرہلاہلاکر تمسخرانہ رنگ میں باتیں کریں گے اورکہیں گے اچھا یہ بات ہے ؟اب ہم سمجھے۔حشر سے مراد تمام عرب کا مسلمان ہونا ہے عَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا۔اس میں یہ بتایا ہے کہ جس حشر کا ہم اس سورۃ میں ذکرکررہے ہیں وہ وہ نہیں جس پر تم اعتراض کرتے ہو ہماری مراد اس سور ۃ میں اس حشر سے ہے جومسلمانوں کے ذریعہ سے اس دنیا میں ہونے والا ہے اوربتایا ہے کہ وہ حشر جس کا ہم نے یہاں ذکر کیاہے وہ توبس قریب ہی ہے۔چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد عرب کے لوگ مسلمان ہوگئے۔اوراس سورۃ میں جس حشر کی خبر تھی و ہ ظاہر ہوگیا۔