تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 356
تعلق پیداکرکے کوئی کامیابی کی راہ میرے خلاف ڈھونڈ لیتے اورمجھے نقصان پہنچانے اورتباہ کرنے کاراستہ نکال لیتے اورا ن کی معرفت میرے خلاف کوئی تدبیر ہی ذی العرش سے پوچھ لیتے جس سے انہیں کامیابی حاصل ہوجاتی۔مطلب یہ کہ کمزوری کے باوجود میرادن بدن بڑھنا اوران کا ان بتوں کی پرستش کرنے اوران کی مدد حاصل کرنے کے باوجود گھٹنا اس امر کی علامت ہے کہ شرک کاعقیدہ صحیح نہیں اورنہ اس میں کوئی فائد ہ ہے۔تردید شرک کی واضح دلیل بتوں کا امداد نہ کر نا ہے یہ دلیل بعض بڑے بڑے مشرکوں کے لئے ہدایت کاموجب ہوئی ہے۔حدیث میں آتاہے کہ فتح مکہ کے موقعہ پر نبی کریم صلعم نے عورتوں کی بیعت لیتے وقت فرمایاکہ اس امر کااقرار کرو کہ ہم شرک نہیں کریں گی۔اس موقعہ پر ہندہ ابوسفیان کی بیوی بھی موجود تھی۔وہ بے اختیار بول اُٹھی کہ یارسول اللہ!کیا اب بھی ہم شرک کریں گی۔اگر ان بتوں میں کچھ طاقت ہوتی اوراگر یہ ہماری مدد کرسکتے توآپ اکیلے ہو کر بھلا ہم پر غالب آسکتے تھے؟ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا۰۰۴۴ وہ اس بات سے جو وہ (یعنی مشرکین )کہتے ہیں پاک اور بہت ہی بالاہے حل لغات۔تَعٰلٰی تَعٰلٰی: اِرْتَفَعَ۔تعالیٰ کے معنے ہیں بلندہوا(اقرب)پس تَعٰلٰی عَمَّا یَقُوْلُوْنَ کے معنے ہوں گے وہ اس بات سے بلند و بالاہے جو وہ کہتے ہیں۔عُلُوًّا:عُلُوًّاعَلَا کامصدر ہے اورعلاکے معنے کے لئے دیکھو سور ۃہذا آیت نمبر ۵۔تفسیر۔اس آیت میں تَعٰلٰی کی تاکید غیر باب سے یعنی عُلُوًّاسے کی گئی ہے۔قرآن کریم میں اس کی اورمثالیں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً فرماتا ہے اَنْبَتَھَا نَبَاتًاحَسَنًا۔مفسرین نے لکھا ہے کہ ایساکرنے سے تاکید میں زیادتی ہوجاتی ہے (روح المعانی زیر آیت ھذا)۔کیونکہ اس میں دوچیزیں ایک فعل اورایک مصد رمقدرنکالنے پڑتے ہیں۔گویاعبارت یوں ہوگی۔تَعَالیٰ تَعَالِیًا وَعَلَاعُلُوًّا و ہ پا ک ہے اوربہت ہی بڑاہے اس بات سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔یعنی خدا کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اپنا قرب کسی کی معرفت دے۔خودپیداکرکے پھر اپنی معرفت کے لئے روکیں پیداکرنا دانائی کے خلاف ہے۔انبیاء کی آمد کی غرض بندے اور خدا کی درمیانی روک کو دور کرنا ہے اگر کوئی کہے کہ پھر اللہ تعالیٰ نبی