تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 355

کاہندوستا ن میں برپا ہے کونسامعقول شخص اسے جائز قرار دے سکتا ہے۔گائے کے پرستار ا س کادود ھ اس کے بچہ سے چھڑالیتے ہیں۔آپ غلہ کھاتے ہیں اسے گھاس کھلاتے ہیں۔اسے باندھ کررکھتے ہیں۔نر پر بوجھ لادتے ہیں۔سواری کاکام لیتے ہیں۔مارتے پیٹتے ہیں اورپھر وہ ماتاکی ماتاہے۔پھر لطیفہ یہ کہ ہند و عیسائیوں پر تمسخر اڑاتے ہیں کہ وہ ایک کمزور بندہ کوخدابنارہے ہیں اوروہ ان پر ہنستے رہتےہیں کہ ایک کمزور جانور کو دیوی سمجھ رہے ہیں۔ان لغو باتوں کو دیکھ کر ایک موحد بے ساختہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہہ اٹھتا ہے۔دوسری علامت گنا ہ سے بچناہے۔مشرک شرک کرتے ہوئے گنا ہ سے بچ ہی نہیں سکتا۔بے شک مشرکوں میں سے بھی بعض نیک ہیں۔لیکن ان کی نیکی شرک کی وجہ سے نہیں بلکہ شرک کے باوجود ہے۔ایسے لوگوں کی فطرت اچھی ہوتی ہے۔پس شرک ان کے اندر جڑ نہیں پکڑتا۔مثلاً گائے ہی کولے لو جولوگ گائے کو پوجتے ہیں اس کو طرح طرح سے دکھ بھی دیتے ہیں۔اوراس پر مجبور ہیں۔کیونکہ گائے خدا تعالیٰ نے انسان کے کام کے لئے بنائی ہے۔انہیں اس سے کام لینے کے بغیر کوئی چار ہ نہیں۔اس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ و ہ گائے سے کام بھی لیتے جاتے ہیں اورساتھ ہی دل میں احساس گناہ بھی بڑھتاجاتاہے اورضمیر ناپاک ہوجاتی ہے۔پھر دیکھو مشرک ہندو دسہر ہ مناتے ہیں۔مگر پھر اس خیا ل سے کہ راون برہمن تھا اوررام کھتری۔دسہر ہ منا کر ایک دن توبہ کارکھتے ہیں تابرہمن کی ہتک کاازالہ ہو جائے۔عیسائیوں کابھی یہی حا ل ہے مسیح کو ایک طرف خدابناتے ہیں دوسری طرف اپنے گناہ اس پر لادتے ہیں۔اور شرک کاعقید ہ ان کے لئے ہربدی کارستہ کھولتاہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ خداوند یسوع نے ہمارے گنا ہ اٹھالئے ہیں۔تیسری علامت قرب الٰہی کی بندہ کی حفاظت ہے تیسری علامت قرب کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طر ف سے مقرب کوحفاظت ملتی ہے۔یہ علامت بھی مشرک کو حاصل نہیں ہوتی اورنہ ہوسکتی ہے۔جوان چیزوں کے تابع ہو جاتا ہے جن کو خدا تعالیٰ نے اس کے تابع بنایاتھا اس کے لئے حفاظت کا کونسا ذریعہ باقی رہ جاتاہے۔چوتھی علامت قرب الٰہی کی باہمی صلح صفائی ہے چوتھی علامت یہ ہے کہ خدا کاہوکر اس کے بندوں سے نیک سلوک کرے اورآپس میں صلح صفائی پیداہو۔یہ علامت بھی مشرک میں پیدا نہیں ہوسکتی۔کیونکہ توحید ہی دنیا میں امن قائم کرسکتی ہے۔مختلف خدائوں کی موجودگی میں تفرقہ اورفساد ہی پیداہو سکتا ہے۔قومی دیوتائوں ہی کی وجہ سے اقوام میں جنگیں ہوتی ہیں۔ہندومسیح کونہیں مان سکتا۔مسیحی گائے کی پوجانہیں کرسکتا۔مگر یہ سب ایک خدا کی پوجاکرسکتے ہیں۔اوردنیا کاامن اس ذریعہ سے محفوظ ہو سکتا ہے۔اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا کے یہ بھی معنے ہیں کہ اگردوسرے معبود سچے ہوتے تویہ لوگ ان کے ساتھ