تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 350
اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنَاثًا١ؕ کیاتمہارے رب نے تم کولڑکوں(کی نعمت )سے مخصوص کردیا۔اور(خود) اس نے بعض فرشتوں کو (اپنی )لڑکیاں اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًاؒ۰۰۴۱ بنایاہے۔تم یقیناً (یہ )بڑی (خطرناک)بات کہتے ہو۔حلّ لُغَات۔اَفَأَصْفٰکُمْ أَصْفَی فُلَانًا بِکَذَا کے معنے ہیں اٰثَرَہٗ بِہٖ وَاخْتَصَّہٗ۔کسی چیز کے متعلق اسے ترجیح دی۔اوراس کواس کے لئے خاص کیا (اقرب) پس اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ کے معنے ہوں گے کہ کیاتم کو خدا تعالیٰ نے بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا۔تفسیر۔اس آیت میں اس ذہنی کش مکش اورشرمندگی کی ایک مثال بیان کی گئی ہے فرماتا ہے کہ مشرکوں کے عقیدوں کو دیکھو کیسے عجیب ہیں۔مثلاً یہ کہ بعض خدا تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اوراپنے لئے لڑکے۔پھر ان ہی لڑکیوں کی پوجاکرتے ہیں جن کو وہ ذلیل قرار دیتے ہیں۔گویاخدا تعالیٰ کو چھوڑ کر انہیں وجودوں کے آگے جھکنا پڑتا ہے۔جن کو ان کے دل ذلیل سمجھتے ہیں۔قَوْلًا عَظِيْمًا سے مراد بیوقوفی کی بات ہے۔عظیم بری چیز کے لئے آئے تواس کے معنے برائی میں زیادتی کے ہوتے ہیں اور اچھے معنوں میں آئے تو اچھی بات میں بڑائی مراد ہوتی ہے۔اس جگہ اس لفظ سے یہ بتایاہے کہ مشرک کی عقل بھی ماری جاتی ہے وہ ایسی باتیں کرتاہے جوکوئی سمجھدار آدمی نہیں کرسکتا۔مشرک کی ذہنیت کو ظاہر کر نے والا مہاراجہ کا واقعہ ا س موقعہ پر ایک لطیف واقعہ مجھے یاد آگیا وہ مشرک کی ذہنیت کوخوب منکشف کرتاہے۔جموں کے ایک سابق مہاراجہ صاحب کے پاس استاذی المکر م حضرت مولوی نورالدین صاحب (اللہ تعالیٰ ان کے مدارج بلندکرے قرآن انہوں نے ہی مجھے پڑھایاتھا اللہ تعالیٰ نے اب مجھے بہت علم بخشا ہے بلکہ وہ خود فرماتے تھے کہ میں نے تم سے ایسے ایسے معارف قرآن کے سنے ہیں جو نہ مجھے معلوم تھے اورنہ پہلی کتب میں درج ہیں۔لیکن اس کتاب کی چاٹ انہوں نے ہی مجھے لگائی اوراس کی تفصیل کے متعلق صحیح راستہ پر ڈالا اوروہ بنیاد ڈالی جس پر میں عمارت تعمیر کرسکا۔اس لئے دل ہمیشہ ان کے لئے دعاگورہتاہے ) بطورطبیب ملازم تھے اورشاہی طبیب کے عہدہ پر فائز تھے بعد میں ان مہاراجہ صاحب کے فوت ہونے پر ان کے