تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 351
بیٹے مہاراجہ پرتاب سنگھ صاحب نے ان کو جموں سے اس الزام پر نکال دیا کہ موجودہ مہاراجہ صاحب کے والد اورچچا راجہ امر سنگھ صاحب او رراجہ رام سنگھ صاحب سے ان کے گہرے تعلقات ہیں ایسا نہ ہوکہ ان کی خاطرمجھے زہر دےدیں۔اس کے بعد وہ قادیان ہجرت کرکے آگئے اورآخر اپنے تقویٰ اورعلم کی وجہ سے جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ ہوئے۔دوران ملازمت کاوہ قصہ سنایاکرتے تھے کہ ایک دن مہاراجہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ مولو ی صاحب آپ بھی کوئی بُت اپنے گھر رکھتے ہیں کہ نہیں۔فرماتے تھے میں نے کہا مہاراجہ صاحب نہیں ہم بُت نہیں رکھتے ہمارے مذہب میں یہ منع ہے۔اس پر کچھ حیران سے ہو کر کہنے لگے کہ ایک نصیحت آپ کوکرتاہوں کہ کالی دیوی کابُت ضروررکھ لیں۔یہ بڑی سخت دیوی ہے اوربڑانقصان پہنچادیتی ہے۔فرماتے تھے میں نے کہا۔مہاراجہ صاحب ہم توکالی کوبھی نہیں رکھ سکتے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔میں نے کہا نہیں مہاراج کوئی نقصان نہیں ہوتا۔یہ سن کر وہ کچھ تردّد میں پڑ گئے۔تھوڑی دیر غورکرنے کے بعد بولے مولوی صاحب میں سمجھ گیا آپ کو میں جموں کی ریاست میں سزادینی چاہوں تودے سکتاہوں۔لیکن آپ سیالکوٹ چلے جائیں توپھر کچھ نہیں کرسکتا۔یہی معاملہ یہاں ہے۔ہم توکالی دیوی کومان کراس کے اختیارمیں آگئے ہیں وہ ہمیں سزادے لیتی ہے۔لیکن آپ لوگ سرے سے انکار کرکے اس کی حکومت سے نکل گئے ہیں اس لئے وہ آ پ کاکچھ بگاڑ نہیںسکتی۔فرماتے تھے میں نے اس پر کہا مہاراج آپ خوب سمجھے ہم ایک خداوندکومان کر ان بتوں کے قبضے سے نکل چکے ہیں۔اس پر مہاراجہ صاحب تو اپنی جگہ خوش کہ میں نے صحیح بات دریافت کرلی اورمیں اپنی جگہ خوش کہ توحید نے ہم کوکیسی کیسی لغویات سے بچالیا ہے۔وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا يَزِيْدُهُمْ اورہم نے اس قرآن میں (ہرایک بات کو )اس لئے بار بار بیان کیا ہے۔کہ وہ (اس سے )نصیحت حاصل کریں اِلَّا نُفُوْرًا۰۰۴۲ اور(باوجود اس کے )وہ انہیں (عُجب و )نفرت ہی میں بڑھارہاہے۔حلّ لُغَات۔صَـرَّفْنَا۔صَـرَّفْنَا صَـرَّفَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے جوصَرَفَ سے مزید ثلاثی ہے اور صَـرَفَہٗ (صَـرْفًا)کے معنے ہیں رَدَّہٗ عَنْ وَجْھِہٖ اس کے ارادہ سے اسے پھیرا اور صَرَّفَ الْکَلَامَ کے معنے ہیں