تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 349

میں بتایاکہ ان حکمت کی باتوں میں سے چند ایک ہم نے اوپر بیان کی ہیں۔اب لائوان کتابوں کو جو اس قرآن کریم سے پہلے تھیں اوردکھائوکہ ان میں ایسی تعلیم کہاں ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چندایک امور ایسے بیان فرمائے ہیں کہ جن کو لے کر ہم اہل کتاب سے مباحثہ کرکے ان کو شکست دے سکتے ہیں۔پہلے رکوع میں فرمایاتھا وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ۔اس کے بعدتوحید کے عملی پہلو کو پہلے بیان کیا اور بتایاکہ اسلام کی توحید نے دنیا کو عملی طورپر کیا فائدہ پہنچایاہے۔اب توحید کادوسراپہلو بیان کرتاہے اورفرماتا ہے کہ صرف دوسرے معبود کی عبادت سے انسان مشرک نہیں ہوتابلکہ اگر کوئی شخص اپنے ذہن میں بھی کسی کو خدا کاشریک خیال کرتاہو تووہ بھی مشرک ہے۔تُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ۔اس کاصرف یہی مطلب نہیں کہ آخرت کوجہنم میں ڈالاجائے گا بلکہ شرک کرنا خود ایک جہنم ہے کیونکہ جب کئی ایک کو معبود بنائے گا توکس کس کو خوش رکھے گااورکس کو ناراض کرے گا۔موحد کے سامنے مشرک ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے دوسرے ا س طرح بھی یہ جہنم ہو جاتا ہے کہ شرک کی کوئی دلیل نہیں ہوتی اورمشرک ہمیشہ موحدوں کے سامنے ذلیل ہوتاہے۔آج عیسائیوں کو ہی دیکھ لو کہ ان کے لئے تثلیث کامسئلہ کس طرح ایک جہنم بن رہاہے۔کسی سے پوچھ کردیکھ لو خواہ کتنا بڑاپادری ہو وہ اس کی کو ئی دلیل نہ دے سکے گا۔صرف اورصرف توحید ہی ایک ایسامسئلہ ہے کہ جس کومان کرانسان آرام میں آجاتاہے اوراسی سے ٹھنڈک نصیب ہوتی ہے۔مَلُوْمًا۔میں بتایاکہ مشرک کے سرپر ہمیشہ ملامت ہی رہتی ہے۔ایک معبود کوماناتودوسرے کی ملامت سرپر آگئی۔اُس کوماناتوتیسرے کی ملامت کا ہار گلے میں۔پھر مَدْحُوْرًا کہہ کر بتا یا کہ ادھر تو ہر وقت کے دکھ میں مبتلا ہوتا ہے۔ادھر آرام و راحت کے سر چشمہ یعنی خدا تعالیٰ سے بھی دور پھینکا جاتا ہے گویا نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم کی سی حالت اس کی ہو جاتی ہے۔