تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 346

وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ اورزمین پر اکڑ کر مت چل۔تونہ(تو)زمین کوپھاڑ سکتا ہے وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا۰۰۳۸ اورنہ پہاڑوں کی بلندی کوپاسکتا ہے۔حلّ لُغَات۔مَرَحًا۔مَرِحَ الرَّجُلُ (یَمْرَحُ)مَرَحًا کے معنے ہیں۔اِشْتَدَّ فَرْحُہُ وَنَشَاطُہُ حتّٰی جَاوَزَالقَدْرَوَتَبَخْتَرَ۔حددرجہ کاخوش ہو کر متکبرانہ چال چلا۔وَاخْتَالَ۔اکڑ کرچلا (اقرب)پس لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًاکے معنے ہوں گے زمین پر اکڑ کرنہ چل۔لَنْ تَخْرقَ۔لَنْ تَخْرِقَ خَرَقَ سے مضارع واحد مخاطب کا صیغہ ہے۔اورخَرَقَ الثَّوْبَ کے معنے ہیں۔مَزَّقْتَہٗ فَتَمَزَّقَ۔کپڑے کوپھاڑاتووہ پھٹ گیا۔خَرَقَ الْمَفَازَۃَ:قَطَعَھَا حَتّٰی بَلَغَ اَقْصَاھَا۔جنگل کو طے کیا اوراس کے آخر تک پہنچا (اقرب) پس لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ کے معنے ہوں گے۔توزمین کے سفر کو طے کرکے ا س کے باہر نہیں نکل سکتا۔تفسیر۔پہلے اس وقت تک توان اخلاق کا ذکر فرمایا گیا تھا جن کاتعلق خدا تعالیٰ سے یا دوسرے انسانوں سے ہے۔اب ان اخلاق کے متعلق ارشاد فرماتا ہے جو اس کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔کہ اگرتمہارے اندر کوئی خوبی کی بات ہو تواس کوتکبر کاذریعہ نہ بنائو کیونکہ اس طرح تم نیکیوں سے محروم ہوجائو گے اورآئندہ ترقی کی طرف قدم نہ اٹھا سکو گے۔کیونکہ جو متکبر ہو جاتا ہے وہ یہ سمجھنے لگ جاتاہے کہ میں نے انتہائی عرو ج پالیا ہے اوراس طرح وہ مزید ترقی سے محروم ہو جاتا ہے۔دوسرے اس میں اس طر ف بھی اشارہ ہے کہ اے انسان تیری کامیابی آخر انسانی کامیابی ہے اس لئے اتنی ہی خوشی کرجو انسانوں کے لئے مقدر ہے اوریہ یاد رکھ کہ تواپنے کمالات کے باوجود زمین کو نہیں پھا ڑسکتا یعنی اس کے باہر نہیں جاسکتا۔عربی محاورہ ہے خَرَقَ الْمَفَازَۃَ۔جنگل کو طے کرکے نکل گیا۔یہی معنے اس جگہ لگتے ہیں اورمراد یہ ہے کہ آخر تونے اسی دنیا میں رہنا ہے تیری ترقیاں محدود ہیں پس اپنے آپ کوایسانہ بنا کہ دوسرے انسانوں سے تیراگذارہ مشکل ہوجائے۔