تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 347
متکبر انسان کا مرقع زندگی جن لوگوں کو متکبر لوگوں کے دیکھنے کاموقع ملاہے۔و ہ جانتے ہیں کہ متکبر آدمی کی زندگی سخت تلخ گذرتی ہے۔کیونکہ ایک طرف تو وہ اپنے آپ کو کوئی عجیب چیز سمجھنے لگتاہے دوسری طرف اسے اپنے ابناء وطن کے ساتھ مل کررہنا پڑتا ہے۔پس عجیب متضاد جذبات میں اس کی زندگی بسر ہوتی ہے۔آجکل کاانگریزی خوان طبقہ جواپنے آپ کودوسرے ہندوستانیوں سے اعلیٰ سمجھتا ہے اوریو رپین ان کو منہ نہیں لگاتے اسی عذاب میں مبتلا ہے۔جواس کے ہیں وہ ان میں رہنا پسند نہیں کرتا اورجن میں وہ رہناچاہتا ہے وہ اسے حقیر سمجھتے ہیں۔پس فرمایاکہ آخر اپنے لوگوں میں تونے رہنا ہے پس دل کی ایسی کیفیت نہ بنا کہ تیری زندگی تجھ پروبال ہوجائے۔جبال سے مراد قوم کے سردار اور عالم لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا۔جبل کے معنے پہاڑبھی ہوتے ہیںاور سید القوم اورعالم قوم کے بھی (اقرب)۔یعنی قوم کاسردار اورقوم کاعالم۔اس جگہ جبال سے مراد دوسرے معنے ہیں یعنی سرداران قو م اورعلماء قوم۔اوریہ جو فرمایا کہ توسرداران قوم اورعلماء قوم کے برابر نہیں ہوسکتا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم میں بڑائی خدمت سے ملتی ہے یاعلم سے اوریہ دونوں قسم کے لوگ انکسا ر کانمونہ ہوتے ہیں۔جیسے کہ عر ب کامحاورہ ہے سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُھُمْ یعنی قوم کاسردار درحقیقت قوم کاخاد م ہوتاہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا(الفاطر:۲۹)اللہ تعالیٰ سے عالم بندے ہی ڈرتے ہیں یعنی جس قدر انسان علم میں ترقی کرتا جاتا ہے اس کی خشیت بڑھتی جاتی ہے۔پس اس جملہ سے یہ بتایا ہے کہ تکبر کرکے تُوقوم کاسردار نہیں بن سکتا نہ قوم کے علماء میں شامل ہو سکتا ہے۔کیونکہ تکبر توتجھ کو اپنی قوم سے دور کردیتاہے اوراسی طرح خدا سے بھی دور کردیتاہے پس اگر توبڑائی کاہی طالب ہے توبھی توتکبر سے اپنانقصا ن کرتاہے کیونکہ ا س فعل سے تُواپنے آپ کو اسی چیز سے محروم کرتاہے جس چیز کی تیرے دل میں خواہش ہے۔پس تکبر نہ کر اگرتیرے اندر کوئی دنیوی خوبی ہے تواس کی مدد سے قوم کو فائدہ پہنچا۔تاکہ توقوم کاسردار بن جائے اوراگر کوئی دینی خوبی ہے تواس کے ذریعہ سے قوم کو فائدہ پہنچا۔تاکہ تو خدا تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ ہوجائے۔کس لطیف پیرایہ میں یہاں تکبر سے روکاگیاہے۔اس کی نظیر بھی دنیا کی کوئی کتاب پیش نہیں کرسکتی۔كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا۰۰۳۹ ان میں سے ہرایک (فعل)کی بُری صور ت تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔حلّ لُغَات۔السَّیّءُ السَّیِّءُکے معنے ہیں اَلْقَبِیْحُ۔بُری صورت (اقرب)