تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 345

لوگ بدظنی کرتے ہیں۔اس لئے اس کا ذکر پہلے کیا۔اس کے بعد دوسرابڑاذریعہ آنکھ ہے اسے دوسرے نمبر پر بیان کیا۔اس کے بعد انتہاء کی بدظنی کرنے والا شخص وہ ہوتاہے کہ نہ شکایت سنتا ہے نہ کوئی بات مشتبہ دیکھتا ہے بلکہ آپ ہی آپ دل میں ایک وجہ بناکر دوسروں کے پیچھے پڑ جاتاہے۔اس کو سب سے آخر میں رکھا کہ یہ موجب سب سے کم ہے۔کیونکہ خطرناک مریض عام مریضوں سے ہمیشہ کم ہوتے ہیں۔اِنَّ السَّمْعَ الخ۔اس جملہ سے یہ بھی اشارہ کیاگیاہے کہ یہ مت خیال کرو کہ صرف مال و جان کے معاملہ میں ظلم میں گرفت ہوگی بلکہ انسانی عزت پر حملہ کے متعلق بھی پرسش کی جائے گی۔اگر کوئی کان دوسرے کی نسبت وہ بات سنے گا جس کے سننے کااس کوحق نہ تھا تواس پر بھی پرسش ہوگی۔اگرآنکھ اس بات کو دیکھنے کی کوشش کرے گی جس کے دیکھنے کااس کوحق نہیں تواس کے بارہ میں بھی پرسش ہو گی۔اگر کوئی دل ایسے خیالات رکھے گا جن کے رکھنے کااسے حق نہیں تواس کے متعلق بھی پرسش ہوگی۔یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی پاکیزگی کی تعلیم ہے کہ اس پرعمل کرکے کسی قسم کاگند انسان میں باقی نہیں رہ سکتا۔کسی فیصلہ کی بنیاد سوء ظن پر نہ ہو اس تعلیم میں اخلاق کے متعلق نہایت اعلیٰ تعلیم دی گئی ہے انسان کو اپنے فیصلوں کی بنیاد ظن پر نہیں رکھنی چاہیے بلکہ علم پر رکھنی چاہیے۔محض کان کی شہادت یاآنکھ کی شہادت یادل کی شہادت کافی نہیں۔بلکہ تمام ذرائع سے تحقیق کرکے پھر فیصلہ کرناچاہیے۔حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کاایک مشہور قو ل ہے کہ’’اگر کسی میں ننانوے وجوہ کفر کے ہوں اورایک وجہ ایمان کی تواس کوکافر مت کہو ‘‘۔اس پُرحکمت ارشاد کایہی مطلب ہے کہ اگر ننانوے دلائل اس کے کفرکے ہوں اورایک دلیل ایمان کی ہوتوبھی اسے کافر نہ کہو۔یہ مطلب ہرگز نہیں جیسا کہ بعض احمق خیال کرتے ہیں کہ ننانوے شرعی وجوہ کفرکے ہوں تب بھی اسے کافر نہ کہو۔کفر کے اسباب تو ہیںہی سات آٹھ۔اللہ کاانکار۔ملائکہ کاانکار۔کتب سماویہ کاانکار۔انبیاء کاانکار۔دعا کا انکار۔قضاو قد رکاانکار اورحشر بعد الموت کاانکار۔پس اگراس کے یہ معنے لئے جائیں کہ ننانوے اسباب کفرکے ہوںپھر بھی کافر نہ کہو توکسی دہریہ کوبھی کافر نہیں کہاجاسکتا۔