تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 31
اندرافکار تو موجود ہوتے ہیں۔مگران کے ابھارنے کے لئے عمدہ غذاکی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانی افکار بھی انسان کے اندرموجود توہوتے ہیں مگر ان کے ابھارنے کے لئے بھی روحانی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔سب انسان ایک ہی قسم کے ہیں۔مگر ایک اعلیٰ درجہ کی قوت فکریہ رکھتا ہے دوسرانہیں۔اوراس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ایک کومناسب غذا ملتی ہے دوسرے کونہیں۔یہی حال روحانی عالم کا ہے۔سب ہی انسانوں کے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت کا جذبہ ہے لیکن ایک آدمی جوروحانی غذائیں کھاتا ہے۔اس کی قوت فکریہ کو جِلا اورروشنی مل جاتی ہے دوسرے کو نہیں۔وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ١ۙ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ اوراس نے رات اوردن کو اورسورج اورچاندکو تمہارے لئے بے اُجرت خدمت پر لگارکھا ہے وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ اور(دوسرے )تمام (سیارے اور)ستارے (بھی )اس کے حکم سے بلااجرت (تمہاری)خدمت پر متعین ہیں يَّعْقِلُوْنَۙ۰۰۱۳ جولوگ عقل سے کام لیتے ہیںان کےلئے اس میں یقینا کئی نشان (پائے جاتے )ہیں۔حلّ لُغَات۔سَـخَّرَ سَـخَّرَکے لئے دیکھو سورۃ رعد آیت نمبر ۳۔سَـخَّرَہٗ۔کَلَّفَہٗ عَمَلًا بِلَا اُجْرَۃٍ۔سَـخَّرَہُ کے معنے ہیں کہ اس کو بغیر اجرت یا بدلہ کے کسی کام پر لگادیا۔ذلَّلَہُ اس کو مطیع کردیا۔وَکُلُّ مَقْھُوْرٍ لَایَمْلِکُ لِنَفْسِہِ مَایُخَلِّصُہٗ مِن الْقَھْرِ فَذٰلِکَ مُسَخَّرٌ۔اور ہر وہ شخص جو کسی کے قبضہ میں ہو اور آزاد رہنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے مسخر کہتے ہیں۔(اقرب) یَعْقِلُوْنَ۔یَعْقِلُوْنَ عَقَلَ(یَعْقِلُ عَقْلًا)سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اورعَقَلَ الْغُلَامُ کے معنے ہیں۔اَدْرَکَ۔لڑکابالغ ہوگیا۔عَقَلَ الشَّیْءَ عَقْلًاکے معنے ہیں۔فَھِمَہُ وَ تَدَبَّرہُ کسی چیز کو سمجھااوراس پرغور کیا۔عَقَلَ الْبَعِیْرَ :ثَنیٰ وَظِیْفَہُ مَعَ ذِرَاعِہٖ فَشَدَّھُمَا مَعًا بِحَبْلٍ۔اونٹ کی پنڈلی کو اس کی ران کے ساتھ ملا کر باندھ دیا۔اورعِقَالٌ اس رسی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اونٹ کی پنڈلی باندھی جاتی ہے۔(اقرب) پساِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَکے معنے ہوں گے کہ جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں یعنی بات کو سمجھتے اوراس پر تدبر