تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 30

کے بغیر زمینی طاقتیں اُبھرتی نہیں۔کوئی نہیں کہتا کہ جب بیج اورنشوونما کی طاقت زمین میں موجود ہے توپانی کی کیاضرورت ہے۔پانی نہ بیج لاتا ہے اور نہ زمین میں نشوونما کی طاقت پیداکرتا ہے۔مگرہر اک جانتا ہے کہ پانی بیج اورنشوونما کی طاقت لاتاتونہیں۔پروہ نشوونما کی طاقت کو اُبھارتا ضرورہے۔اوراس کے بغیر و ہ طاقت بالفعل اپنا اظہار یاکرتی ہی نہیں یابہت کم کرتی ہے۔یہی حال الہام کاہے کہ وہ نئی فطرت نہیں بناتا۔لیکن فطرت کی خوابیدہ طاقتوںکو اُبھارتا ہے۔نباتات کا ذکر ان کے فوائد کے لحاظ سے کیا گیا ہے جس طرح حیوانی فوائد کے بیان میں ترتیب کو مدنظر رکھا گیا تھا کہ پہلے حیوانی غذاکا ذکر کیا تھا جوانسان کے لئے نہایت ضروری ہے اورپھر حیوانات کے دوسرے فوائدبیان کئے تھے۔جوگوویسے ضروری نہیں لیکن انسانی شان کے بڑھانے والے ہیں۔نباتات کے ذکر میں بھی پہلے کھیتی کا ذکر کیا ہے جوعام انسانی غذا پیداکرتی ہے۔پھر زیتون کا جو روٹی کے ساتھ سالن کاکام دیتا ہے اورپھر کھجور کا جو غذابھی ہے اورمیوہ بھی۔اورپھر انگور اور دوسرے پھلو ںکا جوضروری غذاتونہیں۔لیکن انسانی صحت اوردماغی طاقتوں کے بڑھانے کاموجب ہوتے ہیں۔غذا کے حیوانی ہونے کے متعلق ایک اعتراض اور اس کا جواب شاید کوئی اعتراض کرے کہ انسان کی مقدم غذاحیوانی نہیں کیونکہ ایک خاصہ طبقہ دنیا کا صرف نباتی غذااستعمال کرتا ہے مگر یہ اعتراض قلّتِ تدبر کانتیجہ ہوگا۔کیونکہ جو حیوانی غذااستعمال نہ کرنے کادعویٰ کرتے ہیں وہ بے شک گوشت تو نہیں کھاتے۔مگر ان کی اہم غذا بھی حیوانی ہوتی ہے۔ماں کادودھ پئے بغیر کتنے بچے پلتے ہیں۔پھر کیا ماں کادودھ حیوانی غذانہیں؟ اورجو ماں کادودھ نہیں پیتےوہ جانوروں کادودھ پیتے ہیں اوروہ بھی حیوانی غذا ہے۔اورجو لوگ حیوانی غذاکے استعمال سے بظاہر انکار کرتے ہیں وہ بڑی عمرمیں بھی گھی دودھ استعمال کرتے ہیں جو حیوانی غذائیں ہیں۔پس ایسا آدمی کوئی بھی نہیں جس کی اہم ترین غذا حیوانی نہ ہو اورجو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حیوانی غذااستعمال نہیں کرتے۔وہ یاتوخود فریب میں مبتلاہوتے ہیں یاجان بوجھ کر دوسروں کو فریب دیتے ہیں۔وہ یہ توکہہ سکتے ہیں کہ ہم گوشت نہیں کھاتے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کوئی حیوانی غذابھی استعمال نہیں کرتے۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۔غذائوں کے ذکر کے آخر میں فرمایاکہ اس میں فکر کرنے والوں اورسوچنے والوں کے لئے نشان ہے۔اس سے ایک تواس طرف اشار ہ کیاکہ انسانی دماغ غذاسے نشوونماپاتاہے۔اسی طرح روحانیات سے تعلق رکھنے والا دماغ روحانی غذائوں سے نشوونماپاتاہے۔دوسرے اس طرف اشارہ کیا کہ فطرۃ کے