تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 32
کرتے ہیں۔ان کے لئے اس میں کئی نشان پائے جاتے ہیں۔تفسیر۔جمادات سے تعلق رکھنے والی نعمتوں کا ذکر اب ایک اورقسم کی نعمتوں کا ذکر کیا جو جمادات سے تعلق رکھتی ہیں۔اوران میں سے بھی انہی کا انتخاب کیاہے جو انسانی دماغ کے نشوونما پر خاص طورپر اثر انداز ہوتی ہیں۔بے شک انسان لوہے۔لکڑی۔سونے۔چاندی۔پیتل سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے لیکن ان اشیاء سے وہ بڑافائدہ بیرونی آرام کی قسم کا حاصل کرتا ہے۔برتن بناتا ہے۔مکان بناتا ہے۔آلات بناتا ہے۔براہ راست ان اشیا ء کااثر انسانی دماغ پر نہیں پڑتا۔لیکن چونکہ اس جگہ انسانی دماغ کے نشوونما کے ذکر پر زوردینا مقصود ہے۔ا س لئے جمادات کی مذکورہ بالا اقسام کی بجائے رات اوردن ،سورج ،چاند اورستاروں کا ذکر کیاگیا۔رات اور دن درحقیقت جمادی اثرات میں ہی شامل ہونے کے مستحق ہیں کہا جاسکتا ہے کہ رات اوردن تو جمادات میں سے نہیں۔اوریہ درست بھی ہے۔لیکن اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتاکہ رات اورد ن کے فوائد سورج اورچاند اورستاروں کے اثرات سے وابستہ ہیں۔اور وہ اجرام فلکی ان کے ذریعہ سے اپنی تاثیرات ظاہر کرتے ہیں۔یعنی اپنی شعاعوںکو نازل کرکے یاان کو روک کر۔اس لئے رات اوردن بھی درحقیقت جمادی اثرات میں ہی شامل ہونے کے مستحق ہیں۔رات اور دن کے علاوہ سورج چاند وغیرہ کے نام کی ضرورت اگر کہا جا ئے کہ رات اوردن جب سورج اورچاند اورستاروں کے ظہور اورفوائدپر دلالت کرتے ہیں۔توپھر سورج چاند وغیرہ کا الگ نام لینے کی کیا ضرورت تھی تواس کا جواب یہ ہے کہ گورات اوردن ان اجرام فلکی کی تاثیرات کے ظہور کا نام ہیں۔لیکن ان کے علاوہ بھی سورج اورچاند اورستاروں کے اثرات ہیں اور ان سے ایسی تاثیرات بھی دنیا پر پڑتی ہیں جو آنکھوں سے نظر آنے والی شعاعوں کے علاوہ دوسرے ذرائع سے انسان پر اثر انداز ہوتی ہیں۔جیسے برقی یامقناطیسی اثرات۔اوران کے سوااور کئی قسم کی تاثیرات ہیں۔جوسائنس روز بروز دریافت کررہی ہے۔اور کئی وہ شائد کبھی بھی دریافت نہ کرسکے۔(The Heavens vol:1 page: 82) پس باوجود اس کے کہ رات اور دن اجرام فلکی کے تاثیرات کے ظہور کاذریعہ ہیں۔ان کے علاوہ بھی سورج اورچاند ستاروں کا نام لینے کی ضرورت تھی۔تاان دوسری تاثیرات کا ذکر کیا جائے جن سے انسانی دماغ فائدہ اٹھارہا ہے۔اس جگہ یہ سوال ہو سکتاہے کہ اگر یہ بات ہے۔توپھر رات اوردن کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔سورج چاند اورستاروں کا ذکر کافی تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ سورج چاند اورستاروں کی دوسری تاثیرات سے تو عرب کے لو گ