تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 29

يُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَ الزَّيْتُوْنَ وَ النَّخِيْلَ وَ الْاَعْنَابَ وہ اس کے ذریعہ سے تمہارے لئے کھیتی اورزیتون اورکھجور کے درخت اورانگور اور(دوسرے )ہرقسم کے پھل وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۰۰۱۲ (بھی )پیداکرتاہے۔ان لوگوں کے لئے جوفکر سے کام لیتے ہیں اس میں یقیناًایک نشان (پایاجاتا)ہے۔تفسیر۔پہلی آیت میں پانی کا ذکر کیاگیاتھا جسے انسان پیتے ہیں۔اورایسے درختوں کی پیدائش کا ذکر کیاتھا جن سے جانو رپلتے ہیں۔اورپھر ان جانوروں سے انسان فائدہ اٹھاتاہے۔اب ایسی نباتی غذائوں کا ذکر فرماتا ہے جن کو براہ راست انسان استعمال کرتاہے۔اورفرماتا ہے اس پانی سے کچھ اورنباتات بھی اُگتی ہیں جن کو انسان براہ راست استعمال کرتا ہے۔ان میں سے کچھ تو کھیتیاں ہیں جن سے انسانی غذاکے لئے غلّہ پیدا ہوتاہے۔کچھ درخت ہیں جن سے انسان کے کھانے کے لئے پھل اترتا ہے۔جیسے زیتون اورکھجور اورانگور اوران کے علاوہ اوربھی کئی اقسام کے میوے اورپھل۔پھرکیا تم اس امر پر غور نہیں کرتے کہ جس طرح انسان کے سوادوسرے حیوانات انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔اسی طرح نباتات بھی اس کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔جس طرح زمین اگانے کے لئے پانی کی محتاج ہے اسی طرح عقل جوہر دکھانے کے لئے پانی کی محتاج ہے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ فرمایاکہ زمین میںاُگانے کی خواہ کس قدر بھی طاقت ہو وہ آسمانی پانی کے بغیر کچھ نہیں اُگاسکتی۔اسی طرح انسانی فطرت کاحال ہے کہ انسانی ذہن اورانسانی عقل خواہ کس قدر اعلیٰ ہو وہ اپنے جوہر دکھانے کے لئے آسمانی پانی کی محتاج ہے۔اوراس پانی کے بغیر انسانی عقل کی تکمیل نہیں ہوتی۔پس صرف اپنی عقل پر اپنی روحانی ترقیات کا انحصار رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے کہ وہ شخص جو بغیر پانی کے کھیتی اُگانے کی کوشش کرے۔بے شک کھیتی بعض دفعہ اُگ توآئے گی مگر وہ اپنی پوری شان ظاہر نہیں کرے گی۔الہام کے بغیر فطرت کو نشوونما نہیں ہوتا بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ نبی کون سی نئی چیز دنیامیں لاتے ہیں۔سب باتیں جو وہ کہتے ہیں پہلے سے ہی انسانی فطرت میں موجود ہیں۔ان کا بھی ا س آیت میں جواب دیاگیا ہے اورپانی کی مثال سے بتا یاہے کہ کسی چیز کاموجود ہونا اوربات ہے اوراس کا نشوونماپانااوربات ہے۔گوسب کچھ جو نبی بتاتے ہیںفطرت کے مطابق ہوتاہے۔لیکن الہام کے بغیر فطرت کو نشوونمانہیں حاصل ہوتا۔جس طر ح پانی