تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 316

تفسیر۔خدا کا عذاب قوموں کے خراب ہونے پر آتا ہے اس آیت میں بتایاگیاہے کہ جب قومیں خراب ہوجاتی ہیں اوران کے عذاب کافیصلہ ہو جاتا ہے توان کی طرف ایک رسول بھیجا جاتاہے جوان کو ہوشیار کرتاہے لیکن لوگ اس کی بات کو نہیں مانتے اور رسول سے ٹھٹھاہنسی کرتے ہیں۔اوراس کی نافرمانی کرتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ کاعذاب انہیں آپکڑتاہے۔اَمَرْنَا مُتْرَفِیْہَا فَفَسَقُوْافِیْہَا۔بعض مخالفین اسلام نے ا س آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ خدا تعالیٰ بڑے بڑے لوگوںکو یہ حکم دیتاہے کہ بدکار ہوجائو۔اوریہ غلط معنے کرکے ا س پر اعتراض کیا ہے کہ آپ ہی پہلے گمراہ کیاپھر عذاب میں مبتلاکردیا یہ توانصا ف کے خلاف ہے۔حالانکہ فسق کے معنے حکم نہ ماننے کے ہیں اوران معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جومعنے انہوں نے کئے ہیں ان کی بناء پر آیت کاترجمہ یو ں بنتاہے کہ خدا تعالیٰ ان کو حکم دیتا ہے کہ تم بدکاری کرو۔فَفَسَقُوْافِیْہَا تووہ ا س حکم کی نافرمانی کرنے لگ جاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اگر آیت کا مطلب یہ ہو تو اس میں تو ان لوگوں کی تعریف نکلتی ہے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے کہنے کے کہ بدکار بن جائو وہ بدکار نہیں بنتے۔بلکہ نیک ہو جاتے ہیں۔اوریہ معنی بالبداہت غلط ہیں اوراگر یہ معنے کئے جائیں کہ خداکے بدکار بنانے پر وہ بدکار ہوجاتے ہیں تو فَسَقُوْاکا لفظ در ست نہیں رہتا کیونکہ اس صورت میں تووہ فرمانبرداربن جاتے ہیںان کو نافرمان نہیں کہاجاسکتا غرض یہ معنے بالبداہت غلط ہیں اور عربی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے کئے گئے ہیں۔اوراعتراض قرآن کریم پر نہیں پڑتا۔بلکہ ان لوگوںکے علم پر پڑتا ہے۔اصل مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ ہم ان کو حکم دیتے ہیں یعنی بعض خاص امور پر چلنے کاحکم دیتے ہیں جوحکم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کے سبب سے بہرحال نیکی کاحکم ہوتا ہے۔مگر وہ نافرمان ہو جاتے ہیں یعنے اس حکم کو نہیں مانتے۔غرض اس جگہ اَمَرْنَا کامفعول ثانی محذوف ہے کیونکہ وہ ایک ظاہر بات ہے اورایسے مواقع پر عربی زبان میں ایک یادونوں مفعولوں کومحذوف کردیناجائزہوتاہے۔مفعول ثانی کا مضمون ظاہر اس طرح ہے کہ قرآن کریم نے بار بار اس امر کو بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ جب حکم دیتا ہے نیکی کاحکم دیتا ہے۔چنانچہ سورئہ نحل رکوع ۱۳میں ہی فرماچکا ہے کہ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآئِ ذِیْ الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ (النحل:۹۱)یعنے اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اوراس نیکی کاجس میں بدلہ کاخیال تک بھی دل میں نہیں ہو تاحکم دیتاہے اورباطنی بدی اورظاہری بدی اورظلم سے روکتاہے۔اسی طرح سورئہ اعراف میں ہے۔قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَایَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ (الاعراف :۲۹)تُو کہہ دے اللہ تعالیٰ ہرگز بدی کاحکم نہیں دیتا۔پس چونکہ یہ امر واضح ہوچکاہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کا ہی حکم دیتاہے۔مفعول ثانی کومحذوف کردیاگیاہے اورمطلب آیت کا یہ ہے کہ جب