تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 317

اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلا ک کرنے کاارادہ کرتاہے تووہ ا س قوم کو ایک رسول کے ذریعہ سے نیک احکام پرچلنے کاحکم دیتا ہے مگربجائے اس حکم سے فائدہ اٹھانے کے و ہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی میں بڑ ھ جاتے ہیں۔مُتْرَفٌ کے معنے یہ جو فرمایا ہے کہ اَمَرْنَا مُتْرَفِیْہَا کہ ہم اس بستی کے مترفوں کوحکم دیتے ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ صرف مالداروں کوخدا کاحکم ملتا ہے بلکہ مترف کے معنے اس جگہ اَلَّذِیْ یَصْنَعُ مَایَشَآئُ وَلَا یَمْنَعُ کے ہیں یعنی ایسا شخص جو اپنی مرضی پرچلتاہے اورنیک بات کونہیں مانتااوراس لفظ میں سب کے سب وہ لوگ شامل ہیں جوبدی میں مبتلاہوتے ہیں خواہ غریب ہوں یاامیر۔اس آیت کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ ہم عام حکم دیتے ہیں مگرمترف یعنی باغی لوگ اس کونہیں مانتے نیک لوگ مان لیتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیساکہ شیطا ن کے بارہ میں فرمایا ہے کہ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ (الاعراف :۱۳) کہ تجھے کس چیز نے سجدہ سے روکا تھا۔جب میں نے تجھے حکم دیاتھا۔یہاں یہ مراد نہیں کہ خاص اسے ہی حکم تھا بلکہ حکم عام تھا۔جس میں وہ بھی شامل تھا۔پس جب نبی آتا ہے تووہ عام حکم لاتا ہے۔ماننے والے مان جاتے ہیں اورانکار کرنے والے انکا ر کرتے ہیں۔قریہ سے مراد ام القری قریہ سے مراد یہاں پربستی نہیں بلکہ ام القریٰ مراد ہے یعنی جس بستی کو اس زمانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے مرکز تجویز کیا ہو۔جیساکہ قرآن میں ایک اورجگہ فرمایا ہے حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْ اُمِّھَا رَسُوْلًا(القصص:۶۰)۔کہ ہم عذاب نازل کرنے سے پہلے ام القریٰ میں رسول بھیج لیتے ہیں۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ اور(اسی قانون کے مطابق)ہم نے نوح (کی قوم کو اور اس)کے بعد (یکے بعد دیگرے اور)بہت سی نسلوں کوہلاک بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا۰۰۱۸ کیا اورتیرارب اپنے بندوں کے گناہوں پر (اچھی طرح )آگاہی رکھنے والا ہے (اورانہیں)خوب دیکھتاہے۔حلّ لُغَات۔القرون القُرُوْنُکے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۱۴۔اَلْقَرُوْنُ اَلْقَرْنُ کی جمع ہے۔اس کے کئی معنی ہیں۔کُلُّ اُمَّۃٍ ہَلَکَتْ فَلَمْ یَبْقَ مِنْھُمْ اَحَدٌ ہر ایسی قوم جو تمام کی تمام ہلاک ہوئی اور اس میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا۔اَلْوَقْتُ مِنَ الزَّمَانِ زمانہ کے ایک حصہ کو بھی قَرْنٌ