تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 315
الْھَرَمُ فَیَقُوْلُ رَبِّ لَقَدْ جَاءَ الْاِسْلَامُ وَمَا اَعْقِلُ شَیْئًاوَاَمَّاالَّذِیْ مَاتَ فِی الْفَتْرَۃِ فَیَقُوْلُ رَبِّ مَااَتَانِیْ لَکَ رَسُوْلٌ فَیَاخُذُ سُبْحَانَہُ مَوَاثِیْقَہُمْ لَیُطِیْعُنَّہُ فَیُرْسِلَ اِلَیْھِمْ رَسُوْلًااَنِ ادْخُلُواالنَّارَ فَمَنْ دَخَلَہَا کَانَتْ عَلَیْہِ بَرْدًاوَسَلَامًا وَمَنْ لَمْ یَدْخُلْہَا سُحِبَ اِلَیْہَا(روح المعانی زیر آیت ھذا) یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے پاس رسول بھیجے گا پھر اس کی اطاعت کرنے والوں اوراس کو نہ ماننے والوں کی فطرت ظاہر ہوجائے گی۔اوراس کے مطابق ان کو بدلہ ملے گا۔وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا اورجب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کاارادہ کریں تو(پہلے)ہم اس کے خود سر لوگوں کو (کچھ )حکم دیتے ہیں جس پر وہ فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ اس (بستی )میں نافرمانی (کی راہ اختیار)کرتے ہیں۔تب اس (بستی)کے متعلق ہماراکلام پوراہو جاتا ہے۔فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا۰۰۱۷ اورہم اسے پوری طرح تباہ کردیتے ہیں۔حلّ لُغَات۔مُتْرَفِیْھَا۔اَلْمُتْرَفُ کے معنے ہیں۔اَلْمُتَنَعِّمُ لَایَمْنَع مِنْ تَنَعُّمِّہِ۔عیاش۔اَلْمَتْرُوْکُ یَصْنَعُ مَایَشَاءُ۔شریعت سے آزاد شخص۔اَلْجَبَّارُ۔خودسر(تاج) مُتْرَفُوْنَ اس کی جمع ہے۔فسقوا فَسَقُوْا فَسَقَ سے جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔تشریح کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۳۴۔فَسَقَ الرَّجُلُ فِسْقًا: تَرَکَ اَمْرَاللہِ۔اللہ کی نافرمانی کی۔عَصَی نافرمان ہو گیا۔جَارَعَنْ قَصْدِ السَّبِیْل۔درست راہ سے روگردان ہو گیا۔فَجِرَ۔بدکردار ہو گیا۔خَرَجَ عَنْ طَرِیْقِ الْحَقّ۔حق کی راہ سے الگ ہو گیا۔اَلرُّطْبَۃُ عَنْ قِشْرِھَا خَرَجَتْ گابھا چھلکے سے باہر آگیا۔(اقرب) دمَّرنا:دَمَّرْنَا دَمَّرَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اوردَمَّرَھُمْ (وَعَلَیْھِمْ )کے معنے ہیں اَھْلَکَہُمْ یعنے دَمَّرَ جب بغیر صلہ یاعلیٰ کے صلہ کے ساتھ استعما ل ہو۔تواس کے معنے ہوتے ہیںکہ اس کو ہلاک کردیا (اقرب)پس دَمَّرْنَا کے معنی ہوں گے ہم نے ہلا ک کردیا۔