تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 264

ہیں فَلَمَّا غَشِیَہَا مِنْ اَمْرِاللہِ مَا غَشِیَ تغَیَّرَتْ فَمَا اَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللہِ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَنْعَتَہَا مِنْ حُسْنِہَا۔یعنی جب آپ سدر ۃ المنتہیٰ تک پہنچے تواللہ تعالیٰ کے ایک خاص فضل نے سدرہ کو ڈھانپ لیااوراس میں ایسا تغیر ہواکہ کوئی شخص اس کے حسن کی تعریف نہیں کرسکتا (مسلم کتاب الایمان باب الاسراء برسول اللہ و فرض صلوٰۃ)۔تیسری بات آیات قرآنیہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ سدرہ کے پاس جنت بھی آپ نے دیکھی۔اس کا ذکر بھی معراج کی احادیث میں آتا ہے۔چنانچہ نبیوں کی ملاقات کے بعد آتاہےکہ ثُمَّ اِنِّیْ رُفِعْتُ اِلَی الجَنَّۃِ پھر مجھے جنت تک لے جا یا گیا۔اورپھر اس کے بعد ہے کہ ثُمَّ اِنِّی رُفِعْتُ اِلَی سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی یعنی جنت کے بعد مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایاگیا۔یہ روایت ابوسعید خدریؓ کی ہے اورابن جریر نے نقل کی ہے۔(ابن جریر جلد ۱۵ص ۱۱) اوران کے علاوہ اورکتب حدیث میں بھی آتی ہے۔معراج میں قاب قوسین کا مقام سورئہ نجم میں چوتھی بات یہ بیان کی ہے کہ ان نظاروں کے وقت میں ایک حالت پیداہوئی۔جس کانام فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى رکھا گیا ہے۔معراج کی روایات میں اس کا ذکر بھی ہے چنانچہ حضر ت ابوسعید ؓ کی مذکورہ بالا روایت میں سدر ۃ المنتہیٰ کے ذکر کے بعد یہ الفاظ ہیں کہ فَکَانَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی یعنے میرے اوراس کے درمیان صرف قاب قوسین یااس سے بھی کم فرق رہ گیا۔(میں اس جگہ احادیث کے الفاظ کی تشریح نہیں کرتاکہ اس کاکیامطلب ہے صرف یہ بتاتاہوں کہ حدیث معراج میں وہی حالات بیان ہوئے ہیں جو سورئہ نجم میں آئے ہیں) معراج میں رؤیت باری تعالیٰ پانچویں بات سورئہ نجم کی آیات میں یہ بتائی گئی ہے کہ اس موقعہ پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کودیکھا۔جیسا کہ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى میں اشارہ کیاگیاہے۔معراج کی احادیث میں بھی یہ امر کئی روایات میں بیان ہواہے چنانچہ ایک روایت حضرت اسماء بنت ابی بکرؓکی ابن مردویہ نے نقل کی ہے۔اس میں آتا ہے کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر فرمارہے تھے کہ میں نے پوچھا یارسول اللہ آپ نے وہاں کیا دیکھا۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا۔میںنے وہاں کچھ دیکھا۔حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں۔آپ کی مراد یہ تھی کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا (الخصائص الکبریٰ جلد اول ص ۱۷۷)حضرت ابن عباسؓ کی روایت مسلم نے نقل کی ہے اس میں اوپر والی آیت کا ذکر کرکے بیان کیا ہے کہ رَاٰہُ بِفُؤَادِہٖ مَرَّتَیْنِ رسول کریم صلعم نے اپنے دل کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کو دودفعہ دیکھا۔(مسلم کتاب الایمان باب معنی ولقد را ہ نزلۃً اُخریٰ) شب معراج آنحضرت ؐ کا اللہ تعالیٰ سے کلام چھٹی با ت سورئہ نجم کی آیات میں یہ بیان کی گئی ہے۔کہ