تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 265

سدرۃ المنتہیٰ کے قریب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلعم سے کلام کیا۔جیساکہ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى کے الفاظ سے ظاہر ہے معراج کی احادیث میں اس ا مر کابھی ذکر آتاہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث جو اوپر لکھی جاچکی ہے اس میں ذکر ہے کہ جب آپ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو فَکَلَّمَہُ اللہُ تعالیٰ عِنْدَ ذٰلِکَ۔اللہ تعالیٰ نے سدرۃ کے پاس آپ سے کلام کیا۔(خصائص جلد اول ص ۱۷۴)اسی طرح ابن ابی حاتم نے انس بن مالکؓ سے روایت کی ہے۔اوراس میں بھی یہ الفاظ ہیں کہ جب میں اس سدرہ کے پاس پہنچا تو قَالَ اللہُ لِیْ یَامُحَمَّدُ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کلام کیااورفرمایا کہ اے محمدؐ!(آگے لمبی بات بیان ہے )۔(خصائص جلد اول ص ۱۵۵) مذکورہ بالامشابہتوں سے جوسورئہ نجم کی آیات اور واقعہ معراج میں پائی جاتی ہیں۔یہ امر قطعی طور پر ثابت ہوجاتا ہے کہ سورئہ نجم میں معراج ہی کا ذکرکیاگیاہے۔یہ ثابت کرنے کے بعد کہ سورئہ نجم میں جورؤیت اورکلام اورسدرۃ المنتہیٰ کے دیکھنے کا ذکر ہے وہ معراج کا ہی واقعہ ہے۔اب میں یہ بتاناچاہتاہوں کہ سورہ نجم بالاتفاق ۵ ؁بعد نبوت میںیااس سے پہلے نازل ہوئی ہے اور اس کے نزول کے ساتھ ایک ایسے عظیم الشان واقعہ کاتعلق ہے کہ اس کے نزول کے متعلق کوئی شبہ ہی نہیں ہوسکتا۔اوروہ واقعہ یو ں ہے۔سورۃ نجم کا تعلق ہجرت سے ۵ ؁بعد نبوت میں رجب کے مہینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کامشور ہ دیا اورفرمایا کہ مکہ میں ظلم انتہاکوپہنچ گیا ہے اورمغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرف ایک ملک ہے جس میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا تم وہاں چلے جائو۔آپ کے حکم پر بعض لوگ مذکورہ بالا مہینہ اورمذکورہ بالا سال میں مکہ سے حبشہ کی طرف روانہ ہوئے۔ان میں آپ کے داما د حضرت عثمانؓ اورآپ کی صاحبزادی رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔(زرقانی شرح مواہب ،الھجرۃ الاولیٰ الی الحبشۃ) تلاوت سورۃ نجم اور سجدہ کفار کی حقیقت کفار کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا علم ہو اتوانہوں نے ان کا پیچھا کیا لیکن وہ ان کو پکڑ نہ سکے اوران کے پہنچنے سے پہلے یہ لوگ کشتیوں میں سوار ہوکر حبشہ کو روانہ ہوگئے۔اوروہاں امن سے رہنے لگے۔کفار کو جب یہ خبر ملی توانہوں نے عمروبن عاص اورعبداللہ بن ربیعہ کووفدبناکر نجاشی کے پاس بھیجا کہ وہ ان کو لوٹادے۔مگر اس نے ان کی بات نہ مانی اوریہ وفد ناکا م لوٹا۔اس وفد کی واپسی کے بعد ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کفارمکہ آئے اورقرآن کریم سنانے کے لئے کہا۔آپ نے سورئہ نجم پڑھ کر انہیں سنائی۔اس میں سجدہ آتا ہے۔آپ نے اس پر سجدہ کیا اورسب کفار نے بھی ساتھ ہی سجد ہ کیا اورمشہور ہوگیا کہ مکہ کے