تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 263
وقت غلطی نہیں کی۔نہ کوئی بات کم دیکھی اورنہ زیادہ۔(بلکہ جو کچھ دیکھا ٹھیک دیکھا )اس وقت (محمد رسول اللہ صلعم نے)اس (یعنی اللہ تعالیٰ) کی بہت بڑی آیات دیکھیں۔سورۃ نجم میں بیان شدہ امور معراج کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یہ آیا ت معراج کے واقعہ کی طرف اشار ہ کرتی ہیں اوراس کاثبوت یہ ہے کہ ان آیات میں جن امور کا ذکر ہے وہ سب معراج سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً (۱) سدرۃ المنتہٰی تک آ پ کاجانا(۲)اس وقت سدر ۃ المنتہٰی پر کسی چیز کا نازل ہونا(۳)اس کے پاس جنت کا دیکھنا (۴)قاب قوسین کی حالت کاپیداہونا (۵)اللہ تعالیٰ کادیکھنا (۶)کلام الٰہی کاوہاں نازل ہونا۔یہ سب امو ر وہ ہیں کہ جن کا ذکر معراج کی حدیثوں میں آتا ہے۔چنانچہ سدرۃ المنتہٰی کامعراج میں دیکھنا حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں آتا ہے جسے ابن جریر۔ابن ابی حاتم ابن مردویہ۔البزار۔ابویعلیٰ اوربیہقی چھ جامعین حدیث نے اپنی اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔اس کے یہ الفاظ ہیں کہ ثُمَّ انْتَھٰی اِلَی السِّدْرَۃِ۔پھر آپ معراج کی رات آسمان پر جانے اور انبیاء سے ملنے کے بعد آگے بڑھے۔توسدرۃ المنتہٰی تک پہنچے۔(الخصائص الکبریٰ ، باب خصوصیتہٗصفحہ ۱۷۴) اسی طرح ابن جریر۔ابن المنذر۔ابن ابی حاتم۔ابن مردویہ۔البیہقی اورابن عساکر نے ابوسعید خدریؓ سے معراج کے بارہ میں روایت کی ہے۔اس میں بھی آسمان پر جانے اورنبیوں سے ملنے کے بعد سدرۃ المنتہیٰ تک جانے کا ذکر ہے۔اسی طرح مسند احمد بن حنبل۔بخاری۔مسلم اورابن جریر میں مالک ابن صعصہ کی روایت معراج کے متعلق درج ہے۔اس میں بھی لکھا ہے کہ ثُمَّ رُفِعْتُ اِلَی سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔یعنی نبیوں سے مختلف آسمانوں پر ملنے کے بعد مجھے اٹھا کر سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔(الخصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ ۱۶۵) نیز بخاری نے انس ؓ سے روایت کی ہے اس میں بھی آسمان پرجانے اورنبیوں سے ملاقات کے بعد سدرۃ المنتہیٰ تک جانے کا ذکر ہے۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب المعراج۔نیز الخصائص الکبریٰ جلد اول ص ۱۵۳) دوسراامرآیات قرآنیہ میں یہ بتایاگیا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدر ۃ المنتہیٰ تک پہنچے ہیں اس وقت اسے کسی چیز نے ڈھانپا ہے۔جیسے کہ الفاظ اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى (النجم :۱۷)سے ظاہر ہے۔اس کا ذکر بھی احادیث معراج میں آتاہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں جس کا ذکر اوپر آچکا ہے بیان ہواہے کہ جب آپؐ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے تو فَغَشِیَہَا نُوْرُ الْخَلَّاقِ عَزَّوَجَلَّ(الخصائص الکبریٰ جلد اول ص ۱۷۴) یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ کے نور نے سدرۃ کو ڈھانپ لیا۔نیز مسلم نے انسؓ سے جومعراج کے متعلق روایت کی ہے اس کے یہ الفاظ