تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 262
الاقصیَ۔الْاَقْصٰی قَصٰی سے اسم تفضیل ہے اور قَصَی(یَقْصُوْوَقَصِیَ یَقْصٰی)اَلْمَکَانُ کے معنے ہیں بَعُدَ کوئی جگہ دور ہوگئی۔اوراَقْصَی کے معنے ہیں۔اَبْعَدُ۔بہت دور۔اس کی جمع اَقَاصِیْ آتی ہے (اقرب)پس اَلْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی کے معنے ہوں گے دور والی مسجد۔تفسیر۔آیت اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ کی تفسیر میں اختلاف یہ آیت ان معرکۃ الآراء آیتوں میں سے ہے جن کے متعلق مفسرین میں بہت اختلاف رہا ہے۔اس آیت کے متعلق قریباً سب سابق مصنف۔مفسرین اور نیزاس زمانہ کے مفسر کہتے ہیں کہ اس میں معراج کاواقعہ بیان کیا گیا ہے گومعراج کی تفاصیل میں شدید اختلا ف ہے۔یہ مسئلہ بوجہ اختلاف روایات اس قدر پیچیدہ ہوگیا ہےکہ مجھے اس کے سلجھانے کے لئے اس کے کئی حصے کرنے پڑیں گے۔سب سے پہلے میں اس امر کولیتا ہوں کہ اس آیت کے سواقرآن کریم میں معراج کاواقعہ ایک اورجگہ بھی بیان ہواہے اوروہ سورئہ نجم ہے۔اس جگہ پراللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔معراج کا ذکر سورۃ نجم میں اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۔عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى۔ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰى۔وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى۔فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى۔مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى۔اَفَتُمٰرُوْنَهٗ۠ عَلٰى مَا يَرٰى۔وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى۔عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى۔عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى۔اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَایَغْشٰى۔مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى۔لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى (النجم:۵ تا ۱۹) یعنی قرآن کریم ایک وحی الٰہی ہے اللہ تعالیٰ نے جو بڑی طاقتوں والا ہے محمدرسول اللہ کو یہ علم سکھا یا ہے۔وہ بڑی طاقت ظاہر کرنے والا اورحکومت کرنے والا خداہے۔اوراس وقت اس نے یہ کلام نازل کیا جبکہ وہ (یعنی محمد رسول اللہ صلعم)اُفُقٍ اَعلیٰ پر تھے (یعنی سب سے اعلیٰ مقام پر )محمد رسول اللہ خداکے اورقریب ہوئے اورقریب ہو کر پھر نیچے کی طرف آئے یعنی بنی نوع انسان کے قریب ہوئے۔حتیٰ کہ آپ دوقوسوں کے درمیان کی وتروں کی طرح ہوگئے بلکہ اس سے بھی قریب۔یعنی دومشترک وتروں کی جگہ ایک ہی وتر ہوگیا۔اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو اس قرآن میں موجود ہے۔دل نے جوکچھ دیکھا تھا اس میں اس نے غلطی نہیں کی (بلکہ فی الواقع اس نے ایسا ہی دیکھا تھا )کیا تم لوگ اس بارہ میں اس سے جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا۔حالانکہ اس نے یہ بات ایک دفعہ نہیں بلکہ دودفعہ دیکھی ہے اوراس نظارہ کا مقام سدرۃُ المنتہٰی ہے۔اس سدرۃ المنتہٰی کے پا س ہی جنت کا مقام ہے۔اس نے اس وقت اس نظارہ کو دیکھاتھا جبکہ سدرہ کو ایک عجیب پر شوکت جلوہ نے ڈھانک لیا تھا نظر نے بھی اس