تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 261
ہیں۔(اقرب) اَسْرٰی بِہٖ اَسْرٰی بِہٖ کے معنے ہیں۔اس کورات کے وقت لے گیا۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حجر آیت نمبر ۶۶۔اَسْرِ سَرَی سے باب افعال کاصیغہ امر ہے اورسَرَی الرَّجُلُ کے معنی ہیں سَارَ عَامَّۃَ اللَّیْلِ رات کا اکثر حصہ چلا۔اَسْرَی الرَّجُلُ اِسرَاءً مِثْلُ سَرَی۔اور اَسْرٰی (باب افعال ثلاثی مزید)کے معنےسَرٰی (ثلاثی مجرّد )کے ہی ہیں۔وَقِیْلَ اَسْرٰی لِاَوَّلِ اللَّیْلِ وَسَرَی لِاٰخِرِ اللَّیْلِ۔اوربعض محققین لغت کہتے ہیں کہ اَسْرٰی کافعل رات کے ابتدائی حصہ میں چلنے کے متعلق استعمال ہوتاہے۔اورسَرٰی کا فعل رات کے آخری حصہ میں چلنے پر۔اَسْرَاہُ وَاَسْرٰی بِہِ (متعدی)کے معنی ہیں۔سَیَّرَہٗ بِاللَّیْلِ اَیْ سَیَّـرَہُ لَیْلًا یعنےاسے رات کو روانہ کیا۔(اقرب) اَلْعَبدُ۔اَلْعُبُوْدِیَۃُ اِظْھَارُ التَّذَلُّلِ وَالْعِبَادَۃُ اَبْلَغُ مِنْھَا لِاَنَّھَا غَایَۃُ التَّذَلُّلِ۔عبودیت کے معنے عاجزی کے اظہا ر کے ہیں اورلفظ عبادَۃ اس مفہوم کو اداکرنے کے لئے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اس کے معنے انتہائی عاجزی کرنے کے ہیں۔وَلَایَسْتَحِقُّھَااِلَّا مَنْ لَہٗ غَایَۃُ الْاِفْضَالِ وَھُوَ اللہُ تَعَالٰی۔اورانتہائی عاجزی اسی کے سامنے کی جاسکتی ہے جس کے انعام و اکرام بہت زیادہ ہوں اورایسی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ہے۔وَالْعِبَادَۃُ ضَرْبَانِ عِبَادَۃٌ بِالتَّسْخِیْرِ وَعِبَادَۃٌ بِالْاِخْتِیَارِ۔اورعبادت کی دواقسام ہیں (۱)کسی چیز کابلاارادہ عبادت کرنا یعنی اس کا اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی کرنا۔(۲)اختیاری عبادت اوریہ انسانوں کے ساتھ خاص ہے۔وَالْعَبْدُ یُقَالُ عَلیٰ اَرْبَعَۃِ اَضْرُبٍ۔اورعبد کالفظ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے۔(۱)عَبْدٌ بِحُکْمِ الشَّرْعِ۔شریعت کے روسے غلام۔جس کا بیچنا اورخریدنا جائز ہو۔ان معنوں کے اعتبار سے لفظ عَبْدٌ کی جمع عبِیْدٌ ہوگی۔(۲)عَبْدٌ بِالْاِیْجَادِوَذٰلِکَ لَیْسَ اِلَّالِلّٰہِ۔پیداکئے جانے کے باعث عبدکالفظ استعمال کیاجاتا ہے اوراس لحاظ سے عَبْدٌ کی اضافت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہوگی۔کیونکہ صرف خالق وہی ذات ہے۔(۳)عَبْدٌ بِالْعِبَادَۃِ وَالْخِدْمَۃِ۔عبادت اورخدمت کے باعث عبدکالفظ استعمال ہوتاہے۔اس لحا ظ سے لوگ دوحصوں میں منقسم ہو جائیں گے جو محض اللہ تعالیٰ کے لئے عبادت کرنےوالے ہیں۔یعنی عَابِدٌ ان معنوں کے لحاظ سے ا س کی جمع عِبَادٌ آتی ہے۔(۴) دنیا کے غلام اوردنیا دار۔(مفردات) اَلمسجدُالـحرامُ:اَلْمَسْجِدُ الْـحَرَامُ اَلْکَعْبَۃُ۔مسجد حرام کعبہ کو کہتے ہیں۔