تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 259
پہلی سور ۃ میں جو بعض باتیں اشارۃً فرمائی تھیں اس سورۃ میں ان کو واضح کیا گیا ہے۔مثلاً پہلی سور ۃ میں شہد کے متعلق فرمایا تھا کہ ’’فِیْہِ شِفَآئٌ لِّلنَّاسِ‘‘اوراس سے اشار ہ کیاتھا کہ کلام الٰہی میں بھی شفا ہے۔اس سورۃ میں اس مضمون کو بوضاحت بیان فرمایا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔(آیت:۸۳) ترتیب نزول یہ سورۃ نزول میں سورۃ نحل سے پہلے ہے۔مگر مضمون کی ترتیب کے لحاظ سے بعد میں رکھے جانے کے قابل ہے۔اس لئے جمع قرآن کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے سورہ النحل کے بعد رکھا۔میں پہلے بتاچکاہوں کہ سورتوں کے نزول کی ترتیب اورتھی لیکن جمع قرآن کے وقت اس ترتیب کو بدل دیا گیا۔کیونکہ سارے قرآ ن کریم کو پڑھتے ہوئے اوربعد میں آنے والوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسری ترتیب کی ضرور ت تھی۔اوریہ امر قرآن کریم کے زبردست معجزات میں سے ہے۔اس کی ہر سورۃ الگ الگ مضمون پر مشتمل ہے ا ورساتھ ہی اس کے اس کی سورتوں میں زبردست اتصال بھی پایا جاتا ہے۔جب نزول قرآن کے وقت الگ الگ سورتیں نازل ہورہی تھیں اوراس وقت کی ضرور ت کومدنظررکھا جاتا تھا تب بھی پڑھنے والوں کوکوئی مشکل پیش نہ آتی تھی۔کیونکہ ہرسورۃ کامضمون مکمل تھا۔مگرجب بعد میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوسری ترتیب سے مرتب کیا توپھر علاوہ اس مضمون کے جو الگ الگ سورتو ں سے نکلتاتھا ایک اَورسلسلہ مضمون پیداہوگیا جس نے قرآنی مضامین کو اورزیادہ وسعت دیدی۔فَتَبٰرَکَ اللہُ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْن۔اسراء کے ذکر سے شروع کرنے میں حکمت اسراء کے ذکر سے اس کو یہ بتا نے کے لئے شروع کیاگیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کاجانشین مقرر کیا گیا ہے۔اس لئے ان مقامات پر بھی آپ کو قبضہ دیاجائے گا جن کاحضرت موسیٰ ؑ اوران کے اتباع سے وعدہ کیا گیاتھا۔اوریہ بتانے کے لئے کہ موسیٰ ؑ کی طرح آپ کو بھی ہجرت کرنی پڑے گی اوروہ ہجرت آپ کی قوم کی ترقی کا موجب ہو گی۔اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر شروع کیا کہ کس طرح موسیٰ ؑ کو بھیجا اوران کی قوم کو ان کے ذریعہ ترقی دی۔کس طرح انہیں متنبّہ کیا کہ ترقی کے زمانہ میں غافل نہ ہونا مگر انہوںنے اس نصیحت سے فائدہ نہ اٹھایا اورسخت سزاپائی۔پھر فرماتا ہے کہ اس قرآن کو ہم نے تورات سے بھی زیادہ مؤثر بنایا ہے اس کے ذریعہ سے اس سے بھی بڑھ کر تبدیلی ہوگی مگراس کے راستہ میں بھی وہی خطرہ ہے کہ جب دولت آجائے گی توفسق وفجور بھی آجا ئے گا۔دنیا کاکما ناتوبرانہیں مگر اس کے ساتھ خدا کا بھی خیا ل رکھنا چاہیے اورنیکی کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔پھر نیکی کے اصو ل بتائے ہیں۔پھر فرماتا ہے کہ منکرین قرآن جب ان اصول کو سنتے ہیں توبجائے غور کرنے کے اعراض اورتکبر