تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 258
گیار ہویں سال تک جاکر ختم ہواہے۔بشرطیکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓکے حافظہ نے غلطی نہ کی ہو۔اگر ایسا ہو تویہ ساری سورۃ غالباً دسویں اور گیارہویں سال میں نازل ہوئی ہے۔بلکہ ہوسکتا ہے کہ گیارہویں، بارہویں سال میں نازل ہوئی ہو۔مسیحی مفسرین قرآن نے بھی اس سورۃ کا زمانہ نزول ۶ بعد نبوت سے لیکر ۱۲ بعد نبوت بتایاہے۔(تفسیر القرآن از ویری جلد ۳ صفحہ ۵۲،۵۳)یہ الٰہی تصر ف ہے کہ ان لوگوں کے منہ سے یہ صداقت نکلی ورنہ ان کا فائدہ اس میں تھا کہ و ہ اسے بعد ہجرت بتاتے۔اس سورۃکا پہلی سورۃ سے تعلق پہلی سورۃ سے اس سورۃ کا یہ تعلق ہےکہ پہلی سورۃ میں مسلمانوں کی ترقی کی خبر دی تھی اوربتایا تھا کہ انہیں بڑی بڑی حکومتیں ملیں گی اورساتھ ہی ہوشیا ر بھی کردیاتھا کہ یہود نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی اورترقی کے ایام میں خدا کی عبادت کو بھول گئے۔(اس امر کی طرف اشار ہ سبت کے لفظ سے کیا گیاتھا۔دیکھو سورۃ نحل ع ۱۶)اے مسلمانو!تم نہ بھولنا۔بلکہ اس زمانہ میں پہلے سے زیادہ عبادت میں مشغول ہونا۔اس سور ۃ میں اس طرف بھی اشار ہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کوان ممالک کابادشاہ بنادیاجائے گا جن پریہود کی حکومت تھی۔کفار کےساتھ مسلمانوں کے مقابلہ اور مسلمانوں کی فتح کی پیشگوئی اس سورۃ کی ابتداکو پہلی سور ۃ کی انتہاسے یہ تعلق ہے کہ پہلی سورۃ کے آخر میں یہ پیشگوئی تھی کہ اب عنقریب تمہار امقابلہ اہل کتاب سے شروع ہوگااوروہ بھی تم کو کفار کی طرح دکھ دیں گے لیکن ان کے مقابلہ پر بھی اس وقت تک صبر سے کام لینا جب تک کہ مجبوری نہ ہو۔اوریاد رکھنا کہ ان کے مقابل پر اللہ تعالیٰ تم کواسی طرح فتح دے گا جس طرح کفار مکہ پر فتح دینے کاوعدہ ہے۔اب سور ۃ اسرا ء میں اس مقابلہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ مقابلہ مدینہ میں جاکرشروع ہوگا۔اوریہ کہ ا س مقابلہ کانتیجہ یہ نکلے گاکہ ان کے مقدس مقامات پر مسلمانو ںکو قبضہ اورحکومت حاصل ہو جائے گی۔یہودیوں کی دو تباہیوں کے ذکر سے مسلمانوں کی دو تباہیوں کی پیشگوئی اس سور ۃ میں خصوصیت کے ساتھ یہود کی دوتباہیوں کا ذکر فرمایا ہے کہ دودفعہ خاص طور پر انہوں نے نافرمانی کی اوردونوں دفعہ ہی وہ خطرناک عذا ب میں گرفتا ر ہوئے۔اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ مسلمانوں پر بھی ایسی تبا ہی کے دوزمانے آنے والے ہیں مگر ساتھ ہی امید بھی دلا دی کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّٖن ہیں اس لئے آپ کاسلسلہ یہود کی طرح تباہ نہ ہوگا بلکہ ان ابتلائو ں کے بعد اوربھی شان سے چمک اٹھے گا۔