تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 252
یہ کتنا معجزانہ کلام ہے کہ ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں ہیں ،یہود سے کوئی مقابلہ شروع نہیں ہوانہ نصاریٰ سے۔مگر مکہ ہی میں یہ خبردےدی گئی کہ یہود بھی اورنصاریٰ بھی تم پر ظلم اورزیادتی کریں گے۔اوراس وقت دفاع کے طورپرتم کو ان کے مقابلہ کی اجازت ہوگی۔ہاں یہ نصیحت یاد رکھنا کہ جلد بازی نہ کرنا اورپہلے صبر کانمونہ دکھا نا پھر کوئی چارہ نہ رہے تومقابلہ کرنا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی پوری تعمیل کی اوردیر تک اہل کتاب کے ظلم سہے اورآخر مجبوراً ان کے مقابلہ پر نکلے۔جہاد کا حکم دیتے ہوئے قرآن مجید کی اخلاقی خوبی قرآن کریم کی یہ کتنی بڑی اخلاقی خوبی ہے کہ جہادکاحکم دینے سے پہلے اس نے اس کی حدودوقیود کو بیان کرناشروع کردیا ہے تازیادتی کرنے کا احتمال ہی باقی نہ رہے۔عقاب کے لفظ میں یہ اشارہ کیا ہے کہ ناجائزحملہ کاجوا ب ہی جہاد کہلاتاہے ،جارحانہ حملہ جہاد نہیں کہلاسکتا کیونکہ عقاب کالفظ اس فعل کے متعلق بولاجاتاہے۔جودوسرے کے فعل کے جواب میں کیاجائے۔پس اس لفظ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جب سزادو ، جرم کے بعد دو بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ کے الفاظ سے یہ ہدایت کی ہے کہ سزادینی ہی پڑے توبھی یہ خیال رہے کہ جتنی تم کو تکلیف پہنچائی گئی ہے۔اس سے زیاد ہ نہ ہو۔لَىِٕنْ صَبَرْتُمْ میں صبر کی تلقین لَئِنْ صَبَرْتُمْ میں صبر کی ترغیب دی ہے اور بتایا ہے کہ صبر اپنے نتیجہ کے لحاظ سے نہایت ہی اعلیٰ ہوتاہے۔جنگ اُحد میں حضرت حمزہ(آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چچا)اورشہداء احد کے ساتھ کفار نے یہ سلوک کیا کہ ان کے ناک اورکان بھی کاٹ دیئے (یعنی مثلہ کیا)مگرآنحضر ت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبر کیا۔اورموقعہ پانے پر بھی اس قبیح اورننگِ انسانیت رسم کی اجازت نہ دی۔بعض اوقات کفار معاہدات توڑتے تھے۔مگر آپؐ صبر ہی فرماتے تھے (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام غزوۃ احد)۔صبرکانتیجہ بہترہوتاہے۔بدلہ لینے سے صرف انسان کا غصہ دو رہوجاتا ہے۔مگر صبر کرنے کی صورت میں اس کی روحانیت ترقی کرجاتی ہے۔