تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 251

کرتے وقت یہ بھی مدنظررکھاکرو۔کہ مختلف دلائل میں سے جوسب سے اعلیٰ اورمضبوط دلیل ہو ،اس کو بطوربنیاد اورمرکز کے قائم کیاکرو۔اورباقی دلائل کو اس کے تابع۔کیونکہ تائیدی دلیل کے ٹو ٹ جانے سے اصل دلیل کوکوئی ضعف نہیں پہنچتا۔برخلاف اس کے کہ اگر مرکزی نقطہ کمزورہوتومضبوط تائیدی دلائل بھی کوئی زیادہ فائدہ نہیں دیتے اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ میں بتلایا ہے کہ تم اچھی طرح سے تبلیغ کرتے رہو۔لیکن اگرلوگ نہ مانیں تواس سے یہ نتیجہ نکا ل کر مایوس نہ ہوجاناکہ ہمیں تبلیغ کرنی ہی نہیں آتی۔کیونکہ بہت ممکن ہے کہ تمہاری تبلیغ میں کوئی نقص نہ ہو۔مگرمخاطب کے دل پر اس کے گناہوں کاایسازنگ ہو کہ خدا تعالیٰ اس کے لئے ہدایت کی کھڑکی نہ کھولے۔غرض تبلیغ میں منہمک رہنا چاہیے۔نتیجہ نکالنا اوراثر پیداکرنا خدا تعالیٰ کاکام ہے۔وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَىِٕنْ اگر تم(لوگ زیادتی کرنے والوں کو )سزادوتو جتنی تم پر زیادتی کی گئی ہو تم اتنی(ہی)سزادواور(ہمیں اپنی ذات صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ۰۰۱۲۷ کی قسم ہے کہ )اگرتم صبر کروگے توصبرکرنے والوں کے حق میں وہ (یعنی صبر کرنا)بہترہوگا۔حلّ لُغَات۔عاقَبْتُمْ عَاقَبْتُمْ عَاقَبَ سے جمع مخاطب کاصیغہ ہے۔اورعَاقَبَ فُلَانٌ بِذَنْبِہِ (وَعَلٰی ذَنْبِہِ مُعَاقَبَۃً وَعِقَابًا)کے معنے ہیں ، اَخَذَہُ بِہِ اس کے قصورپر گرفت کی اورسزادی۔پس اِنْ عَاقَبْتُمْ کے معنے ہوں گے اگرتم سزادو۔(اقرب) تفسیر۔بعض مفسرین نے پہلی آیات کو اس آیت سے منسوخ قراردیا ہے۔لیکن میں نہیں سمجھ سکا کہ منسوخ ہونے والی ان میں کونسی بات ہے۔کیاعلم سے بحث کرناحکمت اورپختہ بات اورسچی بات کاکہنا اوربردباری سے کلام کرنا منسوخ ہیں یامنسوخ ہونے والی باتیں ہیں ؟پس یہ آیتیں ہرگزمنسوخ نہیں۔اس آیت کامطلب صرف یہ ہے کہ تمہارے دشمن تمہاری دعو ۃ بالحکمۃ کوسن کر نہیں مانیں گے بلکہ تمہارے قتل کرنے کے لئے تلواریں اٹھائیں گے۔توفرمایا کہ جب ایساہو توتم کو بھی اپنے دفاع کے لئے تلوار اٹھانے کی اجازت ہوگی۔