تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 253
وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ اور(اے رسول)توصبر کر اورتیراصبر کرنا اللہ( تعالیٰ کی مدد)سے ہی(وابستہ)ہے اورتوان (لوگوں کی حالت) وَ لَاتَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۰۰۱۲۸ پر غم نہ کھا اورجو تدبیریں و ہ کرتے ہیں ان کی وجہ سے تکلیف محسوس نہ کر۔حلّ لُغَات۔ضَیْقٌضَیْقٌ ضَاقَ (یَضِیْقُ)کامصدر ہے اورضَاقَ الشَّیْءُ کے معنی ہیں ضِدُّاِتَّسَعَ۔کوئی چیز تنگ ہوگئی۔ضَاقَ الرَّجُلُ اس نے بخل سے کام لیا۔نیز اَلضَّیْقُ کے معنے ہیں اَلشَّکُّ فِی الْقَلْبِ دل میں شک ہونا۔مَا ضَاقَ عَنْہُ صَدْرُکَ جس سے دل تنگ پڑے اورتکلیف ہو۔(اقرب)پس لَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ جوتدبیریں وہ کرتے ہیں ان سے تکلیف محسوس نہ کر۔تفسیر۔اس آیت میں صبر کالفظ دوسرے معنوں میں استعمال ہواہے اورمضمون میں تکرار نہیں ہے۔اس جگہ صبر کا مفہوم یہ ہے کہ جب کفارکےساتھ جنگ کی اجازت ملی توآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ سمجھ لیاکہ اب کفار پر عذاب آنے والا ہے۔اس لئے آپؐ پر یہ حکم نہایت شاق گزرا اورآپؐ کادل بھر آیا۔جس پراللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کہ اے رسول، اللہ کایہی فیصلہ ہے تم صبر کرو۔گویا اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ان کے صدمہ میں ہمدرد ی کا اظہار فرماتا ہے۔آنحضرت ؐ کے اخلاق کا کمال اس آیت سے آپ کے اخلاق کاکمال ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو دن رات تنگ کرتے تھے اورحضورکی جان کے درپے رہتے تھے ان کی تباہی کی خبر پاکربھی آپ بے چین ہوگئے حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’وَمَاصَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہ‘‘کہ تجھے اتنارنج ہے کہ ہم ہی تجھےتوفیق دیں توتُو صبر کرسکے گا۔ورنہ یہ غم بہت زیادہ ہے۔اس جملہ کے یہ بھی معنے ہوسکتے ہیں کہ توصبر کر کیونکہ تیراصبر کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہے۔اورایساصبرہی اعلیٰ اخلاق میں سے ہوتا ہے۔جوصبر کمزور ی اورضعف کی وجہ سے ہوتاہے وہ بے چارگی ہے اعلیٰ اخلاق میں سے نہیں۔طاقت رکھتے ہوئے خاموش رہنا ہی اعلیٰ اخلاق کو ظاہرکرتاہے۔وَلَاتَحْزَنْ عَلَیْھِمْ سے اوپر کے معنوں کی تائید ہوجاتی ہے۔حَزِنَ عَلَیْہِ دوسرو ں کی تکلیف پرغم کرنے پربولاجاتاہے۔پس ان الفاظ کی موجودگی میں اس