تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 250

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں سے ان کے فہم اورادراک کے مطابق کلام کیا کرو۔بعض لوگ لیکچردیتے ہیں توموٹے موٹے لفظ اوراصطلاحیں استعمال کرکے رعب ڈالنا چاہتے ہیں۔ان تقریروں سے جاہلوں پر رعب توضرور پڑ جاتاہوگا۔مگر فائدہ ان کی تقریر سے کوئی نہیں اٹھاتا۔(۷) مُوَافِقُ الْحَقِّ کلام کوبھی حکمت کہتے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے آیت کامطلب یہ ہوگاکہ ایسی بات کیاکر و۔جوسچی اورواقعات کے مطابق ہو۔بعض لوگ یہ سمجھ کر کہ ہم سچے دین کی طرف ہی بلارہے ہیں۔بعض غلط باتوں کو بھی بیان کردیتے ہیں۔فرمایاکہ یہ طریق غلط ہے۔دشمن کے مقابلہ میں جوبات کہو سچی کہو۔دوسروں کو ہدایت دیتے دیتے خودہی گمراہ نہ ہوجائو۔جیسے کہ فرمایا لَایَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَاھْتَدَیْتُمْ(المائدۃ:۱۰۶) اگرتم ہدایت پر قائم رہتے ہو۔تواس کی پرواہ نہ کرو کہ دوسراگمراہ ہوتا ہے۔یعنی کوئی ایسی بات جو گناہ ہو اس خیال سے نہ کرو کہ اس کے ذریعہ سے میں دوسرے کو ہدایت دوں گا۔جب تمہاری ہدایت اور دوسرے کی ہدایت ٹکراجائے توا س وقت تم اپنی ہدایت کی فکر کرو۔اور دوسرے کی ہدایت کو خدا پرچھوڑدو۔کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتا کہ مومن کافرہوجائے اورکافرمومن۔وہ تودوسروں کو ہدایت دینا چاہتا ہے۔(۸)حکمت۔محل وموقع کے مناسب کلام کو بھی کہتے ہیں۔ان معنوں کے روسے مطلب آیت کایہ ہوگاکہ تبلیغ میں برمحل بات کرنی چاہیے۔اگربعض دلائل سے دشمن کے برانگیختہ ہونے کااندیشہ ہو ،اورخطرہ ہو کہ وہ اس طرح سے تمہار ی بات نہ سنے گا۔تویہ مناسب نہیں کہ بلاوجہ اس کو چڑائو۔تم اس کے سامنے دوسرے دلائل بیان کروجن کو وہ ٹھنڈے دل سے سن سکے۔گویابات کرتے وقت پہلے مزاج شناسی کرلو۔اگرتم ان کو خوامخواہ بھڑکائو گے ، توکوئی فائد ہ نہ ہو گا۔اللہ اللہ کیامختصر الفاظ میں تبلیغ کے سب گُر بیان کردیئے ہیں۔جوشخص بھی ان پر عمل کرےگاکبھی اپنے مقصد میں ناکام نہیں رہے گا۔اَلْمَوْعِظَۃُ الْحَسَنَۃُ موعظہ حسنہ کے معنے پہلے گزر چکے ہیں۔(یعنی وہ کلام جو دلوں کو نرم کردیتاہو،اوران پر گہرااثر ڈالتاہو ) اس نصیحت سے مسلمانوں کو ادھر توجہ دلائی کہ خشک دلیلوں ہی سے کام نہ چلایاکرو۔بلکہ جذبا ت کو ابھارنے والی بات بھی کیاکرو۔اورحکمت کے ساتھ موعظہ حسنہ کو بھی شامل رکھاکرو۔حسنہ کالفظ رکھ کر بتادیا کہ جھوٹی غیرتیں نہ دلائو۔جیساکہ آج کل کے جاہل علماء لوگوں کو بلاوجہ راستبازوں کے خلاف بھڑ کاتے ہیں۔جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ کہنے سے مراد جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ کہہ کر یہ بتایاہے کہ ان سے جھگڑا