تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 243
شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ (وہ)اس کے انعاموں کاشکرگزار تھا۔اس (کے رب)نے اسے برگزیدہ کیااورایک سیدھی راہ کی طرف مُّسْتَقِيْمٍ۰۰۱۲۲ اس کی راہنمائی کی۔حلّ لُغَات۔اجتبَاہُ اِجْتَبَاہُ کے معنے ہیں :اِخْتَارَہُ وَ اصْطَفَاہُ اس کو چن لیا اور برگزیدہ کیا (اقرب) تفسیر۔یعنی وہ اپنی ہرایک خوبی کو نعمت الٰہی سمجھتاتھا اوروہ ان تمام صفات کو خدا تعالیٰ کادیا ہواخزانہ قرار دیتاتھا۔پس چونکہ وہ تمام نعمتوںکو خداہی کی عطا سمجھتا تھا۔اس لئے جس قدرزیادہ اس کی خوبیاں نکھرتی تھیں اسی قدر وہ اپنے شکر اورانابت الی اللہ میں بڑھتاتھا۔جب انسان میں یہ باتیں ہو ںتوپھر اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اس کو اپنے فضل کے لئے چن لیتا ہے چنانچہ فرمایا تب ان نیکیوں کے بدلے میں مَیں نے اس کو پسند کرلیا اوراس کو ہرخوبی سے متصف پاکر اپنابرگزیدہ بنالیاتھا۔اوراس کو ایسے راہ پر ڈ ال دیا جومستقیم تھی۔یعنی خداتک پہنچانے والی تھی۔مُسْتَقِیْمٍ کے لفظ میں اس طر ف اشارہ ہے۔کہ وہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے والی راہ تھی کیونکہ مستقیم راستہ وہی ہوتا ہے جو دونقطوں کے درمیا ن ہو۔اوردین کے معاملہ میں ایک نقطہ انسان ہے اوردوسرانقطہ خداہے۔پس جو راستہ خدا تعالیٰ تک پہنچائے وہی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ہوگا۔اورجو راہ خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچاتا وہ مستقیم کہلا ہی نہیں سکتا۔کیونکہ اس کارخ اس نقطہ سے ہٹ گیا جس کی طرف پہنچنا مقصود تھا۔اس آیت کاتعلق پہلی آیات سے یہ ہے کہ پہلے بتایاجاچکا ہے کہ تم کوبھی انعام ملیں گے تم مکہ والوں کی طرح نہ بن جانا۔جنہوں نے شریعت ہی کاانکار کردیا۔اوراپنے لئے خود ساختہ قانون کافی سمجھا۔اور تم یہود کی طرح بھی نہ بننا۔جنہوں نے خدائی شریعت میں اختلافات شروع کردئے۔اوراس کی خلا ف ورزی کرنے لگ گئے۔اب بتاتاہے کہ تم کیسے بننا۔فرمایا تم ابراہیم ؑ کی طرح بننا۔جواوصاف اس کے ہیں وہ اپنے اندر پیداکرنا۔اس کانتیجہ یہ ہوگا کہ جو سلوک ہم نے ابراہیم ؑ کے ساتھ کیاتھا وہی تمہار ے ساتھ کریں گے۔وہ سلوک کیاتھا ؟اگلی آیت میں بیان کیاگیا ہے۔