تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 242
قَانِتًا قَانِتٌ۔قنَتَ سے اسم فاعل ہے اورقَنَتَ (یَقْنُتُ قُنْوَتًا)کے معنے ہیں اَطَاعَ۔اطاعت کی اورقَنَتَ اللہَ وَقَنَتَ لِلہِ کے معنے ہیں ذَلَّ اللہ تعالیٰ کے حضور تذلل اختیار کیا نیز اس کے معنے ہیں۔دَعا۔اس نے دعاکی۔قَامَ فِی الصَّلٰوۃِ۔نماز شروع کی۔اَمْسَکَ عَنِ الْکَلَامِ۔کلام کرنے سے رکار ہا۔نیز اَلْقَانِتُ کے معنے ہیں اَلْقَائِمُ بِالطَّاعَۃِ الدَّائِمِ عَلَیْھَا پوری طرح اطاعت کرنے والا۔اَلمُصَلِّی۔نماز گزار۔(اقرب) الحنیف اَلْـحَنِیْفُ:اَلصَّحِیْحُ الْمَیْلُ اِلی الْاِسْلَامِ الثَّابِتُ عَلَیْہِ۔اسلام کی طرف صحیح میلان رکھنے والا اوراس پر قائم رہنے والا۔اَلْمَائِلُ عَنْ دِیْنٍ اِلَی دِیْنٍ۔ایک دین کو چھو ڑکر دوسرے دین کی طرف جانے والا۔اَلْمُسْلِمُ۔کامل فرمانبردار۔اس کی جمع حُنَفَاءُ آتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔حضرت ابراہیم ؑ کو امت کہنے کی تشریح اس آیت میں ابراہیم علیہ السلام کو امت کہا ہے اس کے ایک تویہ معنے ہیں کہ وہ نیکی کی تعلیم دینے والا اورسب قسم کی خیر کاجامع تھا۔دوسرے میرے نزدیک ادھر بھی اشار ہ ہے کہ اس کے اندر وہ طاقتیں موجود تھیں جن سے امتیں پیداہوتی ہیں۔حتی کہ ان طاقتوں کی وجہ سے اسے امت کہاجاسکتاہے گویا وہ درختِ امت کے لئے بطور بیج کے تھا۔حضرت ابراہیم ؑ کی صفات کا بیان اس آیت میں حضرت ابراہیم کی بہت سی صفات بیان فرمائی ہیں۔ایک تویہ کہ وہ معلم خیر تھے۔دنیا کو نیکی کی تعلیم دیتے تھے۔دوسرے یہ کہ وہ جامع الخیر تھے۔سب قسم کے اخلاق فاضلہ ان میں پائے جاتے تھے۔تیسرے یہ کہ و ہ نہایت اعلیٰ فطرت رکھتے تھے جوزبردست نموکی قوتیں پوشیدہ رکھتی تھی۔جس سے امتوں کاپیداہوناممکن تھا۔چوتھے یہ کہ وہ قانت تھے۔اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے۔دعائیں کرنے والے تھے۔پانچویں یہ کہ وہ حنیف تھے یعنی زبردست قوۃ مقاومۃ رکھتے تھے اور کبھی حق کے راستہ سے دوسری طرف مائل نہ ہوتے تھے۔چھٹے یہ کہ وہ مشرک نہ تھے یعنی توحید پر کامل طور پر قائم تھے۔یہ کامل توحید کے معنے اس سے نکلتے ہیں کہ قَانِتًا لِلہِ اورحَنِیْفًا کے بعد یہ فقرہ رکھا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ اس جگہ عام موحد مراد نہیں۔بات یہ ہے کہ عام طور پر انسان جب اس کے اند رخوبیاں پیداہوجائیں اپنی ذات پر بھروسہ کرنے لگ جاتاہے اوراس میں کبر اورخودبینی و خودرائی و خودستائی پیداہوجاتی ہیں اوروہ اپنے آپ کو بڑاسمجھنے لگ جاتاہے۔یہ بھی ایک قسم کا شرک ہےاللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے متعلق یہ فرماکر کہ لم یک من المشرکین یہ بتایا ہے کہ باوجود اتنی خوبیوں کے وہ خداہی کابندہ رہا اوراپنے نفس کی خوبیوں کو اپنی طرف منسو ب کرکے شرک کامرتکب کبھی نہیں ہوا۔