تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 244
وَ اٰتَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ اورہم نے اسے دنیا میں (بھی بڑی)کامیابی بخشی تھی۔اوروہ آخر ت میں(بھی) الصّٰلِحِيْنَؕ۰۰۱۲۳ یقیناً صالح لوگوں میں سے ہوگا۔تفسیر۔ان صفات کی وجہ سے ہم نے ابراہیمؑ کو دنیا میں بھی بڑی ترقیات دی تھیں۔اورا س کو دنیا میں آرام کی زندگی عطا کی تھی اورآخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوگا۔مِنَ الصّٰلِحِيْنَکا مطلب مِنَ الصّٰلِحِيْنَسے مراد جیساکہ میں پہلے بتاچکاہو ں (نحل رکوع ۱۲)یہ ہے کہ اس کی طاقتیں مرنے کے بعد اگلے جہان کی اعلیٰ ترقیات سے کامل مناسبت رکھنے والی ہوں گی۔یعنی وہ اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات پانے اوران سے فائد ہ اٹھانے کی قابلیت رکھتاہوگا۔حضرت ابراہیم ؑ کی دنیوی ترقی اس آیت میں جہاں یہ بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو یہ انعامات ہم نے دیئے تھے۔وہاں اس سے یہ ظاہر کرنابھی مقصود ہے کہ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ابراہیمؑ کے لئے توبگڑنے کاموقعہ ہی نہ تھا۔کیونکہ وہ دنیاوی ترقیات سے محروم تھا۔فرماتا ہےاگر کوئی یہ کہے تو یہ غلط ہوگا۔ہم نے اسے دنیو ی ترقیات بھی دی تھیں (چنانچہ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود دوسرے ملک سے ہجرت کر کے آنے کے حضرت ابراہیمؑ کی مالی حالت بھی بہت اعلیٰ ہوگئی تھی اورحکومت بھی حاصل ہوگئی تھی۔پیدائش باب ۱۳آیت ۲،۱۴تا۱۶) مگر باوجود اس کے وہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ رہے۔پس اے مسلمانو !جب تم کو بادشاہت ملے توابراہیم کی طرح تما م ترقیات کو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتیں اورامانتیں سمجھنا۔اورمغرورنہ ہوجانا۔