تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 235
يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَؕ۰۰۱۱۷ کامیاب نہیں ہوتے۔حلّ لُغَات۔تَصِفُ۔تَصِفُ وَصَفَ سے مضارع واحد مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اور وَصَفَ کے لئے دیکھو نحل آیت نمبر ۶۳۔یُفْلِحُوْنَ۔یُفْلِحُوْنَ اَفْلَحَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اوراَفْلَحَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں فَازَ وَظَفِرَ بِمَا طَلَبَ۔وہ اپنے مطلوب کے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔اَفْلَحَ زَیدٌ:نَجَعَ فِیْ سَعْیِہٖ وَاَصَابَ فِیْ عَمَلِہٖ۔اپنی کوشش میں کامیاب ہوگیا اورحسب خواہش مطلوب کو پالیا (اقرب)پس لَایُفْلِحُوْن کے معنے ہوں گے وہ کامیاب نہیں ہوتے۔تفسیر۔لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ میں یاتومَا مصدر یہ ہے اورلَاتَقُوْلُوْا کامفعول اَلْکَذِب ہے یعنی اپنی زبانوں کے بولے ہوئے جھوٹ کی بناء پر یہ نہ کہو کہ فلاںچیز حلال ہے اورفلاں حرام ہے۔یاپھر مَا موصولہ ہے جس کے روسے معنےیہ ہوں گے کہ جن چیزوں کو تمہاری زبانیں جھوٹ بول کر حلال حرام قراردیتی ہیں ان کی نسبت یہ نہ کہو کہ وہ حلا ل ہیں یاحرام۔تمہاری زبان سے مراد دونوں صورتوں میں قو م کے سرداروں کی زبانوں سے ہے کیونکہ ساری قوم جھوٹ نہیں بنایاکرتی۔بعض لیڈر جھوٹ بولتے ہیں اور دوسرے لوگ ان کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔لِتَفْتَرُوْا میں لام عاقبت ہے لِتَفْتَرُوْا عَلَی اللہِ الْکَذِبَ۔یہاں پر لام عاقبت کے معنے دیتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسانہ کہو کیو نکہ اس کانتیجہ یہ ہو گاکہ تم اللہ پر افتراءکر نے لگ جائو گے یعنی اس طرح اپنے پاس سے حلال حرام قرار دینا اللہ تعالیٰ پر افتراء کے مترادف ہے کیونکہ حلال حرام مقرر کرنا اللہ تعالیٰ کاکام ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ مفتری کامیاب نہیں ہوتے۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔مگر مسلمانوں کو اس طرف توجہ نہیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ماموروں کی سب سے بڑی نشانی ہی یہ ہے۔