تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 234
میں ایک دفعہ ایک طوطاشکارکرکے لایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اسے دیکھ کر کہا محمود اس کاگوشت حرام تونہیں۔مگراللہ تعالیٰ نے ہر جانور کھانے کے لئے ہی پیدا نہیں کیا۔بعض خوبصورت جانور دیکھنے کے لئے ہیں کہ انہیں دیکھ کر آنکھیں راحت پائیں۔بعض جانوروں کو عمدہ آواز دی ہے کہ ان کی آوازسن کرکان لذت حاصل کریں۔پس اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہر حس کے لئے نعمتیں پیداکی ہیں وہ سب کی سب چھین کر زبان ہی کو نہ دے دینی چاہئیں۔دیکھو یہ طوطاکیساخوبصور ت جانور ہے۔درخت پربیٹھا ہوادیکھنے والوں کوکیسابھلا معلوم ہوتاہوگا۔طیب میں یہ بھی شرط ہے کہ دوسری مخلوق کا حق نہ مارا جائے غرض طیب کے لئے جہاں صحت کے لحاظ سے اچھا ہوناشرط ہے وہاں اس کے کھانے میںیہ بھی شرط ہے کہ اس چیز کے کھانے سے انسا ن کے دوسرے حواس یا دوسرے بنی نوع انسا ن یادوسری مخلوق کا حق نہ ماراجائے۔بلکہ دوسروں کے جذبات کو مدنظررکھنا بھی ضروری ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَااسْتَخْبَثَتْہُ الْعَرَبُ فَھُوْ حَرَامٌ(روح المعانی سورۃالانعام زیر آیت ۱۴۳ تا ۱۴۷)یعنی جسے عر ب خراب کھاناسمجھیں وہ حرام ہے۔یہاں حرام کے معنے یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کاکھانے والا گنہگار ہوتا ہے۔بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ عربوں کے سامنے اسے نہیں کھاناچاہیے کیونکہ اس طرح آپس کے تعلقات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔اس وقت ہندوستا ن میں گائے کاگوشت بھی ایسا ہی ہے۔جملہ مسلمانوں کو نصیحت مسلمانوں کو احتیاط چاہیے کہ گائے کاگوشت ہندوئوں کے سامنے نہ کھایاکریں اوراس کا ذکر بھی ان کے سامنے نہ کیا کریں۔کیونکہ اس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ اوراپنی زبانوںکے جھوٹے بیان کے سبب سے (یہ)مت کہوکہ یہ حلال ہے اوریہ حرام ہے (تاایسانہ ہو)کہ تم هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ اللہ(تعالیٰ )پر جھوٹ باندھنے والے بن جائو۔جولوگ اللہ(تعالیٰ)پرجھوٹ باندھتے ہیں وہ ہرگز