تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 236
مَتَاعٌ قَلِيْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۱۱۸ (یہ دنیا )تھوڑاساعارضی سامان ہے۔اور(اس کے نتیجہ میں )ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر)ہے۔تفسیر۔یعنی چند دن تک اگر عذاب سے بچ جائیں تواَوربات ہے مگر لمبی عمر نہیں پاتے۔یعنی اتناعرصہ الہام شائع کرنے کے بعد نہیں پاتے جتنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوملا۔وَ عَلَى الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ اورجن لوگوں نے یہودی مذہب اختیار کیا تھا ان پر (بھی)ہم نے اس سے پہلے وہ (تمام )چیزیں حرام کی تھیں جن قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ کا ذکر ہم نے تجھ سے کیاہے۔اورہم نے ان پر (یہ احکام دےکر )ظلم نہیں کیاتھا بلکہ وہ (ان احکام کوتوڑ کر)اپنی يَظْلِمُوْنَ۰۰۱۱۹ جانوں پر ظلم کیاکرتے تھے۔حلّ لُغَات۔قَصَصْنَا قَصَصْنَا قَصَّ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اورقَصَّ کے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۴۔قَصَّ یَقُصُّ قَصًّا وقَصَصًا اَثْرَہُ: تَتَبَّعَہٗ شَیْئًا بَعْدَ شیْءٍ۔اس کا نشان تلاش کرتے ہوئے اس کے پیچھے گیا۔وَمِنْہُ فَارْتَدَّا عَلٰی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔اَیْ رَجَعَا فِی الطَّرِیْقِ الَّتِیْ سَلَکَا ھَا یَقُصَّانِ اَلْإِثْرَ۔اور انہی معنوں میں قرآن کریم کی آیت فَارْتَدَّاعَلَی اٰثَارِھِمَا قَصَصًا۔میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔قَصَّ عَلَیْہ الْخَبْرَ وَالرُّؤْیَا:حَدَّثَ بِھِمَا عَلٰی وَجْھِھِمَا بات کو بے کم و کاست بیان کیا۔ٹھیک طور پر بیان کیا۔وَمِنْہُ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ۔اَیْ نُبَیِّنُ لَکَ اَحْسَنَ الْبَیَانِ۔اور انہی معنوں میں سورہ یوسف کی آیت نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ میں یہ لفظ آیا ہے۔یعنی ہم تیرے سامنے ٹھیک ٹھیک بات بیان کرتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں بتایاہے کہ کفارکی طرح یہودیوں نے بھی ایساکیاتھاجس کے بدلہ میں ان کوسزاملی