تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 200

والوں کے لئے اس قدربشارات کے سامان کو ن پیداکرسکتاتھا۔جھوٹ بولنے والا دعویٰ توکرسکتاہے مگران دعوئوں کے پوراکرنے کے سامان توپیدا نہیں کرسکتا۔غرض چاردلائل اس آیت میں ان کے اعتراض کے رد میں بیان کئے ہیں۔اوران میں سے ہرایک اکیلا ہی ان کے اعتراض کوتوڑنے کے لئے کافی ہے۔وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ اورہم یقیناًجانتے ہیں (کہ )وہ کہتے ہیں (کہ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ)ایک آدمی اسے سکھاتاہے(مگروہ نہیں سمجھتے لِسَانُ الَّذِيْ يُلْحِدُوْنَ اِلَيْهِ اَعْجَمِيٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ کہ) جس شخص کی طرف وہ (اشارہ کرتے اوران کے ذہن اس کی طرف)مائل ہوتے ہیں اس کی زبان اعجمی ہے عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ۰۰۱۰۴ اوریہ (قرآنی زبان توخوب)روشن (کرکے دکھانے والی )عربی زبان ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْبَشَرُاَلْبَشَرُ:اَلْاِنْسَانُ ذَکَرًاوَاُنْثٰی وَاحِدًا اَوْ جَمْعًاوَقَدْیُثَنّٰی کَقَوْلِ الْقُرْاٰنِ: اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا۔بَشَرٌ کے معنے ہیں انسان خواہ وہ مذکر ہو یا مؤنث واحد ہویاجمع۔بعض اوقات لفظ بشر کاتثنیہ بھی بنایاجاتاہے جیسے قرآن کی آیت اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ میں بَشَرَیْنِ تثنیہ ہے۔(اقرب) لِسانٌ لِسَانٌکے معنے ہیں اَلْمِقْوَلُ بولنے کا آلہ (زبان)اَللُّغۃُ۔بولی جانے والی زبان۔مذکر اور مؤنث ہردو طرح استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ لِسَانٌ فَصیْحٌ اورلِسَانٌ فَصِیْحۃٌ دونوں طرح بولتے ہیں۔(اقرب) یُلْحِدُوْنَ یُلْحِدُوْنَ اَلْحَدَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اورلَحَدَ (مجرد اَلْحَدَ)بِلِسَانِہٖ اِلٰی کَذٰاکے معنے ہیں مَالَ۔کسی طرف مائل ہوا۔اوراَلْحَدَ فُلَانٌ کے معنے ہیں مَالَ عَنِ الْـحَقِّ۔حق سے منحرف ہوگیا (مفردات )پس یُلْحِدُوْنَ اِلَیْہِ کے معنے ہوںگے کہ وہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔اَعْجَمِیٌّ اَلْاَعْـجَمُ مَنْ لَایُفْصِحُ وَلَایُبَیِّنُ کَلَامَہٗ وَ اِنْ کَانَ مِنَ الْعَرَبِ۔وہ شخص جو اپنے مافی الضمیر کواچھی طرح واضح نہ کرسکے خواہ وہ عرب ہی کیوں نہ ہو۔مَنْ لَیْسَ بِعَرَبِیٍّ وَاِنْ اَفْصَحَ بِالْعَجَمِیَّۃِ وہ شخص جو